جوانی برقرار رکھنے والا پھل۔۔ ایک معلوماتی رپورٹ

شنگھائی (ویب ڈیسک) چین کے لوگ گوجی بیری کو پھل اور جڑی بوٹی دونوں کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ گوجی بیری میں وٹامن سی، اینٹی آکسیڈنٹس ، امیانو ایسڈز اور معدنیات موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ روایتی چینی طب کے ماہرین جگر اور گردے کے بہتری کے لیے اس کے استعمال کو تجویز کرتے ہیں۔

بیجنگ میں چینی طب کی تعلیم حاصل کرنے والی ژینگ کا کہنا ہے کہ ’چینی مائیں اکثر اپنے بچوں کو یہ کہتی ہیں کہ انھیں یہ زیادہ کھانے کی ضرورت ہے۔ یہ کیروٹین سے بھرپور ہے جو بینائی بہتر کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ لیکن میں اسےگردے اور جگر کے نظام کو بہتر کرنے والے پھل اور جڑی بوٹی کے طور پر لوں گی۔ روایتی چینی طب کے مطابق آنکھیں اس پورے سسٹم کا حصہ ہیں،اس سے الگ نہیں۔‘جب ژینگ مریضوں کو نسخہ لکھ کر دیتی ہیں تو وہ اسے دوسری جڑی بوٹیوں کے ساتھ ملا کرد دیتی ہیں۔ ژینگ کا کہنا ہے کہ ’ہم عام طور پر ایک جڑی بوٹی پورے علاج کے لئے استعمال نہیں کرتے ہیں بلکہ یہ ایک مرکب کا حصہ ہوتی ہیں۔‘ژینگ کے مطابق اگر کسی کو بخار یا گلے کی سوزش ہو تو وہ مریض کو گوجی بیری کے استعمال سے منع کرتے ہیں۔’اگر وہ معدے کے مسائل سے دوچار ہوں تو بھی ہم انھیں بیری سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن اگر آپ تندرست ہیں تو گوجی بیری کھانے میں کوئی حرج نہیں۔‘گوجی بیری طویل عرصے سے چینی ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ روایتوں میں ملتا ہے کہ دو ہزار سال پہلے ایک ڈاکٹر چین کے گاؤں میں پہنچا جہاں ہر شخص کی عمر 100 سال سے زیادہ تھی۔اس نے دریافت کیا کہ وہ سب ایک ایسے کنویں سے پانی پیتے ہیں جس کے ارد گرد گوجی کے بیر موجود ہیں۔ اس کے بعد نظریہ سامنے آیا تھا کہ جیسے ہی پھل پک جاتا ہے اور کنویں میں گر جاتا ہے تو اس کے وٹامن سے بھرے پھل پانی میں شامل ہوجاتے ہیں۔17 ویں صدی کے لی کنگ یواین کا قصہ بھی گوجی بیری سی جڑا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ روزانہ یہ بیری کھاتا تھا جس کی وجہ سے اس نے دو سو باون سال کی عمر پائی۔لیکن اس سادہ بیری کے لیے بھی وقت بدل رہا ہے، بشمول یہ کہ اس کا استعمال کس طرح ہوتا ہے۔ اب اسے چین اور دیگر ممالک میں بھی ایک سپر فوڈ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ایشیا کی نوجوان نسلیں گوجی بیری کے فوائد کو سمجھ رہی ہیں، لیکن اپنے انداز میں۔ مثال کے طور پر جین زی کے ممبر گوجی کے بیر کی چائے کے لیے ’ویل نس کیٹلز‘ خرید رہے ہیں۔

Comments are closed.