جون میں دنیا کے اس خطے میں 3 لاکھ لوگ کورونا کی نذر ہو جائیں گے ۔۔۔۔ عالمی ادارہ صحت کی وارننگ نے دنیا کو تشویش میں مبتلا کردیا

لندن (ویب ڈیسک)افریقہ میں کورونا وائرس کی وبائی مرض سےمیں جون کے مہینہ میں3ملین افراد جان سے جا سکتےہیں، اقوام متحدہ کے اقتصادی کمیشن آف افریقہ کے مطابق براعظم افریقہ کے لوگوں نے قبل از وقت احتیاطی اور معاشرتی فاصلہ قائم نہ کیا تو دنیا میں سب سے زیادہ اموات اسی براعظم میں ہوں گی،

کورونا وائرس کا سب سے پہلا مریض 14فروری کو مصر میں سامنے آیا تھا، اب افریقہ میں 1ہزار کورونا وائرس سے اموات ہو چکی ہیں اور 18ہزار کے قریب متاثرین موجود ہیں اگر برصغیر میں وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے اقدامات پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا تو کورونا وائرس کنٹرول سے باہر ہو جائے گا اور 1.2بلین افراد اس سے متاثر ہو سکتے ہیں اگر معاشرتی دوری کے اقدامات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو متاثرین کی تعداد 122ملین تک جا سکتی ہے۔ الجیریا میں افریقی ممالک میں سے سب زیادہ کورونا وائرس سے اموات ہوئی ہیں جن کی تعداد 348ہے مصر ‘ مراکش اور جنوبی افریقہ کے ساتھ دیگر ممالک سخت متاثرہ ممالک میں شامل ہو سکتے ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق افریقہ اگلا مرکز ہو سکتا ہے، امپریل کالج لندن کے اعدادو شمار اور تحقیق پر مبنی رپورٹ پر بین الاقوامی محققین نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جون کے آخر تک 16ملین سے زیادہ افریقی متاثر ہوں گے جبکہ بیس ہزار افراد چند ہفتوں کے دوران موت کے منہ میں جاسکتے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے عہدیداروں نے یہ بھی کہا کہ برصغیر میں کورونا وائرس کے رد عمل پر گہری نظر ہے 30جون تک 1لاکھ 26ہزار افراد کی موت ہو سکتی ہے ،افریقہ میں کورونا وائرس تاریخی تباہی کا سبب بنے گا ،چونکہ ابھی تک ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس کی ویکسین دریافت نہیں ہوئی مگر جدید ترین طبی سہولیات میسر ہیں تو دنیا کے پسماندہ ممالک اور براعظم افریقہ میں صورتحال انتہائی گمبھیر نظر آ رہی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام براعظموں کے مقابلے میں افریقہ میں پہلے ہی تپ دق‘ ایچ آئی وی /ایڈز کے بنیادی امراض کا پھیلائو سب سے زیادہ ہے۔ علاوہ ازیں برطانیہ کے پرائیویٹ ہسپتالوں کی نرسوں نے کورونا وائرس کے مریضو ں کا علاج کرنے سے انکار کر دیاہے اور کہا ہے کہ ان کے پاس ‘ گائون ‘ ایپرین اور فیس ماسک نہیں ہیں علاوہ ازیں ماہرین طب نے عوام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ واشنگ مشین میں اپنے کپڑے 60ڈگری درجہ حرارت پر رکھ کر دھوئیں جس سے بجلی کے استعمال میں اضافہ تو ہوگا مگر اس امر کو یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ اگر ان کے کپڑوں پر کوئی وائرس موجود ہے تو وہ اس درجہ حرارت سے مر سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.