جو عورت آپ کو اپنی صحیح عمر بتا دے تو اسکے 2 ہی مطلب ہوتے ہیں ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک دن گئے دوسرے دن واپس آ گئے ۔ایئر لائن بھی اچھی لیکن ذرا ’’منافق‘‘ جو سواریاں اٹھانے بڑھانے کیلئے وقت آگے سے آگے کرتی رہی ’’کمپنی‘‘ بھی بہت اچھی مثلاً آصف عفان، سندس فیم، یسین خان اور اپنے رئیس انصاری

لیکن پھر بھی اس مختصر سے سفر نے مت مار دی تو وہ زمانے یاد آگئے جب لمبے سے لمبا سفر بھی ’’مارننگ واک‘‘ سے بڑھ کر کچھ نہ تھا لیکن اب ؟ چند روز قبل اک وقفہ کے بعد کسی سے ملاقات ہوئی تو حال پوچھا میں نے جواباً حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’باقی تو ٹھیک ہے لیکن ’’ایج‘‘ اپنا کام دکھا رہی ہے۔ بزرگانہ انداز میں یہ گھسی پٹی بات دہراتے ہوئے میرے علم میں اضافہ کیا کہ ’’حسن نثار صاحب! یہ ’’AGING‘‘ کوئی شے نہیں صرف سٹیٹ آف مائنڈ ہے ’’میں نے پوچھا ‘‘ یہ بتائو دماغ یعنی مائنڈ کہاں ہوتا ہے ؟ ’’بولے ‘‘ کھوپڑی میں ‘‘تب میں نے کہا کہ اگر میں ’’مائنڈ‘‘ کو دھوکہ دے کر ملکہ پکھراج،ان کی صاحب زادی طاہرہ سید اور حفیظ جالندھری کی طرح قائل بھی کر لوں کہ ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ تو جسم کے باقی اعضا یعنی پرزوں کا کیا کروں گا جو دن رات اٹھتے بیٹھتے چیخ چیخ کر یاد دلاتے رہتے ہیں کہ ’’ہوش کرو میاں ! بوڑھے ہو گئے ہو ‘‘اٹھ فریدا ستیا تری داڑھی آیا بُور۔۔اگا آ گیا نیڑے تے پچھا رہ گیا دور۔۔کچھ بھی تو ویسا نہیں رہ گیا جیسا ہوتا تھا۔ نہ یہ شہر آج سے 50-40سال جیسا ہے نہ ٹریفک ویسی، نہ لوگ ویسے، نہ قدریں ویسی، نہ قیمتیں ویسی، نہ فضا ویسی، نہ کیمپس والی نہر ویسی نہ میں ویسا نہ تو ویسا ۔سچ یہ کہ ’’AGING‘‘بہت بڑی سچائی ہے۔ یہ اور بات کہ لمبی عمر تو ہر کوئی مانگتا ہے لیکن بڑھاپا کسی کے وارے میں نہیں

اور یہ بات میں نہیں کر رہا اک قدیم عربی محاورے کا ترجمہ ہے اور خصوصاً ان کیلئے جو بڑھاپے کو ’’سٹیٹ آف مائنڈ‘‘ قرار دیتے ہیں ۔اسے سمجھنا ہو تو باکسنگ کے لیجنڈ محمد علی کے آخر ی سالوں کی تصویریں دیکھ لیں جس کے اس گانے نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی تھی ۔’’میں تتلی کی طرح اڑتا اور شہد کی مکھی کی طرح کاٹتا ہوں‘‘ریگن جیسا سپر فٹ آدمی اپنا نام اور ماضی تک بھول چکا تھا ۔یہ مقدس سطریں کہنے کی حد تک تو مجھے بھی یاد ہیں کہ۔۔”GRAY HAIR IS A CROWN OF GLORY, IT IS GAINED BY LIVING A GODLY LIFE. THE GLORY OF THE YOUNG IS THEIR STRENGTH. THE GRAY HAIR OF EXPERIENCE, IS THE SPLENDOR OF THE OLD”۔۔۔لیکن میں کیا کروں کہ انجیل مقدس کی یہ سطور اس وقت بھی یاد آ جاتی ہیں جب بالوں میں کنگھی رکتی ہی نہیں جبکہ چند سال پہلے تک یہ چلتی ہی نہیں تھی اور بہت سے بوڑھوں کو تو سفید بال نصیب ہی نہیں ہوتے کیونکہ کم بخت ہوں گے توسفید ہوں گے ۔ٹنڈ تو سفید ہو نہیں سکتی ۔CARY GRANTسچ مچ کا لیجنڈ تھا کیونکہ ہماری طرح گورے یہ لفظ ہر ایرے غیرے، للو پنجو، گامے ماجھے کیلئے استعمال نہیں کرتے اور اسی کیری گرانٹ نے کہا تھا ۔”WHEN PEOPLE TELL YOU HOW YOUNG YOU LOOK, THEY ARE ALSO TEUING YOU HOW OLD YOU ARE”۔۔ہمارے پڑوسی ملک چین کی ایک ضرب المثل کا ترجمہ کچھ یوں ہو گا کہ۔۔’’جو عورت آپ کو اپنی صحیح عمر بتا دے تو یا وہ ابھی بہت کم عمر ہے یا اتنی بوڑھی کہ اسے کسی بات کا کوئی خطرہ نہیں

‘‘ہر کسی کو ساتھی کی ضرورت ہے لیکن بڑھاپا اک ایسا ساتھی ہے جس کی کمپنی آپ شاید ہی کبھی انجوائے کرتے ہوں ۔انسان پیدا ہوتا ہے تو روتا ہے لیکن ارد گرد کے لوگ خوشی مناتے ہیں کوشش یہ ہونی چاہئے کہ انسان جب چل بسے تو خوشی خوشی جائے لیکن ارد گرد کہ لوگ ضرور روئیں کہ اک اچھا انسان ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رخصت ہوگیا۔ بڑھاپے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اگر آپ ایک رات گھر سے باہر گزاریں تو پھر کئی دن گھر سے نکلنے کا نام بھی نہیں لیتے ۔40سال کی عمر جوانی کا بڑھاپا ہے ۔ 50سال عمر بڑھاپے کی جوانی ہے، باقی نری بکواس یا کہانی ہے ۔بڑھاپے کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ اس کا کوئی مستقبل ہی نہیں ہوتا۔ بڑھاپے میں گھر کے اندر تو بہت جگہ ہوتی ہے لیکن دوائیوں والی دراز میں مزید دوائوں کی جگہ نہیں ہوتی اور آدمی کنفیوژڈ رہتا ہے کہ کب کون سی دوائی کھانی ہے۔قصہ مختصر بوڑھوں کو تمام تر گریس کے ساتھ یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں یا ہو رہے ہیں کہ اس طرح احتیاطی تدابیر بروقت اور آسان ہو جاتی ہیں جبکہ نوجوان لوگوں کے دھیان میں ہمیشہ بڑھاپا رہنا چاہئے کیونکہ یہ کبھی دور نہیں ہوتا اور اتنی آہستگی سے آتا ہے کہ اس کے قدموں کی چاپ تک سنائی نہیں دیتی ۔رہ گئ ’’ابھی تو میں جوان ہوں ‘‘ والی بات تو یہ شعری مبالغہ کے سوا کچھ بھی نہیں جس سے بچنا ہی بہتر ہے ۔

Comments are closed.