جگا گجر کے عروج کو زوال کیسے آیا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔لاہور کے ایس ایس پی حاجی حبیب الرحمن نے منیر احمد منیر کو دیے گئے اپنے ایک طویل انٹرویو میں، جو ’کیا کیا نہ دیکھا‘ کے نام سے شائع ہوا، بتایا کہ ’جگا کی بدقسمتی کا آغاز اُس دن ہوا جب اُن کا سامنا

مزنگ میں پھلوں کی ایک دکان پر لاہور کے ڈپٹی کمشنر فتح محمد خان بندیال سے ہوا۔ بندیال صاحب نے دیکھا کہ پھلوں کی دکان پر ایک جیپ آ کر رُکی، اس میں سے ایک شخص اُترا، جس کے آگے پیچھے چھ، سات ہ افراد تھے۔ اس شخص نے پھلوں کی دُکان کا رخ کیا۔‘’دکاندار نے بندیال صاحب کو نظرانداز کر کے اس شخص کو سلام کیا، جگے نے اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ لہرا کر جواب دیا۔ پھلوں کی چند ٹوکریاں اور شربت کی تین چار بوتلیں اپنی گاڑی میں رکھوائیں اور پیسے دیے بغیر روانہ ہو گیا۔ بندیال صاحب کے لیے یہ منظر ناقابل یقین تھا۔‘’انھوں نے دکاندار سے پوچھا کہ یہ شخص کون تھا؟ دکاندار نے کہا کہ آپ لاہور کے نہیں لگتے، یہ جگا بادشاہ تھا، لاہور کا اصل بادشاہ۔ سارے لاہور پر اس کا حکم چلتا ہے۔‘’بندیال صاحب مزید حیران ہوئے، انھوں نے سوچا لاہور کا ڈی سی تو میں ہوں یہ بادشاہ کہاں سے آ گیا۔ وہ گھر جانے کی بجائے وہاں سے مزنگ تھانے پہنچے۔ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو اپنا تعارف کروایا اور پورا واقعہ سُنایا۔ پولیس اہلکار خاموش کھڑے رہے۔ کچھ دیر بعد ایس ایچ او نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔‘’بندیال صاحب نے کہا غلط فہمی کی کیا بات ہے میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں۔ اصل ایس ایچ او تم ہو اصل افسر ایس ایس پی ہے یا ڈی سی ہے، یہاں بدمعاشوں کا راج ہے، میں تو سنتا آیا تھا آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ یہاں اصل حاکم تو کوئی اور ہے۔‘

’ایس ایچ او اسی وقت بندیال صاحب کو اسی پھلوں کی دکان پر لے گیا، دکاندار ایس ایچ او دیکھ کر کھڑا ہو گیا اور ایس ایچ او نے دکاندار سے بندیال صاحب کا تعارف کروایا اور دریافت کیا کہ کیا ابھی جگا نام کا کوئی شخص یہاں سے مفت پھل لے کر گیا ہے۔ دکاندار نے کہا اس نام کا کوئی شخص یہاں نہیں آیا اور پھر ہم کسی کو مفت پھل کیوں دیں گے۔ بندیال صاحب یہ بات سُن کر حیران ہوئے، وہ سمجھ گئے کہ ایس ایچ او اور ان کی موجودگی میں دکاندار حقیقت نہیں بتائے گا۔‘حاجی حبیب الرحمن نے بتایا کہ ’اب بندیال صاحب نے مجھے بلایا اور سارا واقعہ سُنایا۔ میں نے کہا کہ اچھا ہوا کہ آپ نے یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ایس ایچ او بھی کہہ رہا ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور دکاندار نے بھی یہی کہا ہے کہ وہاں اس نام کا کوئی شخص آیا ہی نہیں، یہ ہے ان بدمعاشوں کاس راج ۔ بندیال صاحب نے کہا کہ یہ معاملات ایسے نہیں چلیں گے ہمیں ان لوگوں سے نمٹنا پڑے گا۔‘پولیس کے محکمے میں موجود مخبروں کی مدد سے یہ اطلاع جگا گجر تک بھی پہنچ گئی کہ اب لاہور کی انتظامیہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے والی ہے۔ ایک دن جگا گجر حاجی حبیب الرحمن کے دفتر پہنچ گیا، چٹ بھیجی محمد شریف عرف جگا۔ اس کے ساتھ اس کا دست راست ریاض عرف راجو گجر بھی تھا۔’جگا نے کہا کہ وہ پولیس کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے بس اس کی جاں بخشی کر دی جائے۔ جگا نے رشوت کی پیشکش بھی کی اور دیگر ترغیبات بھی دیں مگر حاجی حبیب الرحمن صاحب نے اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔

Comments are closed.