جہانگیر ترین میرا بیان رد کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں ؟

کراچی(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے ہتک عزت کا مقدمہ درج کروانے کے اعلان پر جسٹس وجیہہ الدین کا موقف بھی سامنے آ گیاہے ، انہوں نے کہا کہ مقدمہ وہ کرتاہے جس کے حقوق پامال ہوئے ہوں ، کوئی مسئلہ نہیں ، کیا فواد چوہدری کے حقو ق کی پامالی ہوئی

یا عمران خان کے ،کوئی صاحب ہتک عزت کا مقدمہ درج کروانا چاہتا ہے تو کریں۔ایم کیوایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس وجیہہ الدین نے کہا کہ عمران خان کے جہانگیر ترین سے تعلقات کوئی خراب نہیں ہیں، چینی سکینڈل کا فائدہ جہانگیر ترین کو ہوا ہے، جہانگیر ترین تردید کے سوا اور کرتے بھی کیا ، ایسے اخراجات کتابوں میں درج نہیں ہوتے ، ایسے اخراجات آوٹ آف دا باکس ہو تے ہیں، میں نے جو بھی کہاہے وہ سچ کہاہے ، جب کوئی بات کر رہا ہو تو اذان ہو جائے تو اس کا مطلب ہے وہ سچی بات کر رہاہے ۔جسٹس وجیہہ الدین کا کہناتھا کہ ملک میں مہنگائی کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے ، ترقی کے لحاظ سے سندھ سب سے پیچھے ہے ، کہیں وڈیرہ اور کہیں خان قابض ہیں ،مسائل کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا ، ایم کیوایم کی لیڈر شپ کا شکر گزار ہوں ۔یاد رہے کہ جسٹس (ر)وجیہہ الدین نے الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان کے گھر بنی گالہ کیلئے جہانگیر ترین پچاس لاکھ روپے خرچ دیا کرتے تھے ۔ جسٹس وجیہہ الدین کے بیان کے بعد جہانگیر ترین نے ٹویٹر کے ذریعے بیان جاری کرتے ہوئے اس کی تردید کی تاہم آج فواد چوہدری نے جسٹس وجیہہ الدین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے ۔