جہانگیر ترین کی اہلیہ یوسف رضا گیلانی کی کیا لگتی ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور سینئر صحافی محمد نواز رضا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔بالآخر پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست جیت ہی لی، ایک طرح سے یہ قومی اسمبلی کے ارکان کا جنرل نشست پر حکومت کے خلاف عدم اعتماد اور

خواتین کی نشست پر اعتماد کا اظہار ہے۔ عبد الحفیظ شیخ جو پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے تصور کئے جاتے ہیں، کی شکست ’’سٹنگ گورنمنٹ ‘‘ کے لئے بہت بڑا ’’اپ سیٹ‘‘ ہے۔ اس انتخابی معرکے میں شکست نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اپوزیشن نے سید یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کے انتخابی معرکے میں اتارکر ایک بڑا سیاسی کھیل کھیلا۔ گو عمران خان بھی سیاست کی پُرخار وادی میں ربع صدی سے سرگرداں ہیں اور انہیں اس بات کا زعم بھی ہے کہ انہوں نے ’’چوروں اور لٹیروں ‘‘ کی سیاست ختم کر دی ہے لیکن اپوزیشن کے ’’گھاگ‘‘ سیاست دانوں نے انہیں ان کی پسند کی ’’پچ‘‘ پر مارا ہے۔ اگر حکومت کو ذرا بھی سوجھ بوجھ ہوتی تو وہ اس نشست پر کبھی عبد الحفیظ شیخ کو انتخاب لڑانے کا خطرہ نہ مول لیتی جہاں حکومت بہت کم ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہے، وہ انہیں بآسانی پنجاب، سندھ یا خیبر پختونخوا سے کامیاب کرا سکتی تھی لیکن ضرورت سے زائد خود اعتمادی نے شکست کا مزہ چکھا ہے۔ آصف علی زرداری کا شمار ملک کے جہاندیدہ سیاست دانوں میں ہوتا ہے انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو سینیٹ انتخابات سے قبل اسمبلیوں سے استعفے دینے کی بجائے عمران خان کو سیاسی میدان میں شکست دینے کی راہ پر لگایا۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ اپوزیشن نے ’’غیر مقبول‘‘ ٹیکنو کریٹ کے مقابلے میں ایک ’’منجھے ہوئے‘‘ سیاست دان کو لا کھڑا کیا جس کا جنوبی پنجاب اور سندھ میں گہرا اثرو رسوخ ہے۔ آصف علی زرداری نے سید یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کی سینیٹ کی نشست پر انتخاب لڑانے کا فیصلہ اس لئے بھی کیا

کہ یوسف رضا گیلانی کی پیر صاحب پگارا سے قریبی رشتہ داری ہے، مخدوم حسن محمود کی ایک بہن سید یوسف رضا گیلانی کی والدہ محترمہ اور دوسری بہن پیر صاحب پگارا کی اہلیہ ہیں، اس طرح پیر صاحب پگارا سید یوسف رضا گیلانی کے خالو ہیں جب کہ پیر صدر الدین راشدی سے سید یوسف رضا گیلانی کی صاحبزادی کی شادی ہوئی ہے، یوں جہانگیر ترین کی اہلیہ یوسف رضا گیلانی کی کزن ہیں،اسلام آباد کی سینیٹ نشست پر انتخابی معرکہ میں سندھ اور جنوبی پنجاب کے ارکان نے اہم کردار کیا ہے۔ اگرچہ پیر پگارا اور جہانگیر ترین نے سینیٹ کے انتخابات بارے کھل کر اپنے سیاسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا لیکن قرین قیاس ہے انہوں نے یوسف رضا گیلانی کو کامیاب کرانے میں اپنا وزن ان کے پلڑے میں ڈالا ہوگا بہر حال اس سارے سیاسی کھیل میں ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد کی جنرل نشست پر 17حکومتی ارکان ’’ادھر ادھر‘‘ ہو گئے، 7حکومتی ارکان نے دانستہ اپنے ووٹ مسترد کرا دیے، ایک نے تو بیلٹ پیپر پر اپنے دستخط کر دیے جب کہ 10ارکان نے اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دیے۔ اسلام آباد کے پارلیمانی حلقوں میں یہ کہا جا رہا تھا کہ 25،26ارکان نے اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کرا رکھی تھی لیکن کپتان نے انتخاب سے ایک روز قبل کچھ ارکان کو ’’راضی‘‘ کر لیا تھا۔ شنید ہے اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ دینے والے بعض ارکان نے آئندہ انتخابات میں اپوزیشن سے ٹکٹ کی یقین دہانیاں حاصل کر لی ہیں۔

حکومت بھی اسلام آباد کی نشست پر شکست ہضم نہیں کر پائی اور رضا گیلانی کی کامیابی کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وڈیو کو بطور ثبوت پیش کرنے کا دعویٰ کیا ہے بہرحال اسلام آباد کی جنرل نشست سے حکومتی امیدوار کی شکست نے اپوزیشن کو وزیراعظم عمران خان سے استعفے مطالبے کا جواز فراہم کر دیا ہے۔ جسپر وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینےکا فیصلہ کیا ہے، اعتماد کا ووٹ چونکہ اوپن ہو گا لہٰذا وزیراعظم بآسانی اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیں گے۔ اس وقت ایوان میں حکومتی اتحاد کو 182ارکان کی حمایت حاصل ہے اگر 11ارکان کھلم کھلا حکومت کے خلاف بغاوت کر دیں یا اتنی تعدا دمیں ارکان اعتماد کا ووٹ دینے کے لئے ایوان میں نہ آئیں تو پھر وزیراعظم کو مستعفی ہونا پڑے گا۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے 172ارکان کی حمایت درکار ہے، خفیہ ووٹ سے تو ممکن ہے اپوزیشن کو کامیابی حاصل ہو جائے لیکن بہت کم حکومتی ارکان اپنے وزیراعظم کے خلاف اوپن ووٹ استعمال کرنے کی جرأت کرتے ہیں۔ خفیہ رائے شماری سے جہاں حکومت دو نشستوں سے محروم ہو گئی وہاں پاکستان پیپلز پارٹی بہتر ’’حکمت عملی‘‘ سے دو مزید نشستیں حاصل کرنے میں کا میاب ہو گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سینیٹ میں پی ٹی آئی 26نشستوں کے ساتھ سر فہرست ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی 21نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت ہے جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی 17نشستیں رہ گئی ہیں۔ اڑھائی سال قبل قائم کی گئی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے پاس 13نشستیں ہیں، جمعیت علمائے اسلام کے پاس بھی 5نشستیں رہ گئی ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات کے بعد ایک بار پھر حکومت کو اپنا ’’پسندیدہ‘‘ چیئرمین منتخب کرانے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا تاحال ایوانِ بالا میں اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 51اور حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 49ہے۔ جماعت اسلامی کا ایک سینیٹر حکومت کے ساتھ ہے اور نہ ہی اپوزیشن کے۔ بلوچستان کی سیاسی جماعتوں بالخصوص ’’باپ‘‘ کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ وہ دوبارہ بلوچستان سے اپنا چیئرمین بنوانے کیلئے حکومت سے سودے بازی کر سکتی ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی 21نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہونے کے باعث اپوزیشن لیڈر کا منصب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اپوزیشن نے جس کامیاب حکمتِ عملی سے اسلام آباد کی نشست پر انتخاب کو بڑے ’’انتخابی معرکے‘‘ میں تبدیل کر دیا ، وہ سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کو بھی بڑے انتخاب میں تبدیل کرکے حکومت کو سرپرائز دے سکتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.