جہانگیر ترین کی بلاول بھٹو سے ملاقات کی تیاریاں شروع ۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) جہانگیر ترین کی بی ٹیم نے پیپلزپارٹی کی قیادت سے رابطے تیز کر دئیے ،عید کے بعد جہانگیر ترین کی بلاول بھٹو زرداری سے بڑی بیٹھک کی تیاریاں شروع کر دیں گئیں ۔تفصیلا ت کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ناراض اراکین نے پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے رابطے تیز کر دئیے ہیں

،جس میں ذرائع کے مطابق بہت جلد جہانگیر ترین اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ،تحریک انصاف کے ان اراکین پارلیمنٹ میں زیادہ تر تعداد اُن لوگوں کی ہے جو پارٹی کی سینئر قیادت سے ناراض تھے ،اور بہت سے اراکین پہلے ہی پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے میں تھے ۔پیپلزپارٹی کے ساتھ رابطے بحال کروانے میں تحریک انصاف کا ایک ایسا رکن شامل ہے جس کا تعلق ماضی میں بھی پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت سے رہا ہے ،ذرائع کے مطابق عید کے فوری بعد بلاول بھٹو زرداری لاہور میں ڈیرے ڈالنے والے ہیں جس میں ممکنہ طور پر جہانگیر ترین اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہو سکتی ہے ،دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہےکہ وزیر اعظم عمران خان کو بڑا دھچکا دینے کیلئے جہانگرین ترین مناسب وقت کا انتظا ر کر رہے ہیں اور ہو سکتا ہے جہانگرین ترین قومی اسمبلی میں ہونےو الے بجٹ اجلاس یا اس سے قبل کوئی بڑا سرپرائز دیں ۔جہانگیر ترین کے پاس ا س وقت 25 سے زائدپنجاب میں صوبائی اسمبلی کے ارکین ان کی حمایت میں کھڑے ہیں ،جہانگیر ترین کسی بھی وقت پنجاب حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا سکتے ہیں کیونکہ یہ تمام اراکین اسمبلی اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کیلئے تیار ہیں ،ان اراکین اسمبلی کی طر ف سے بھی جہانگیر ترین پر دبائو بڑھا یا جا رہا ہے کہ جلد از جلد اگلہ لائحہ عمل طے کریں تاکہ وہ اپنی سیاست کا رُخ متعین کر سکیں ۔بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے جہانگیر ترین کی جانب سے 21 اپریل کو دی جانے والی افطاری کے موقع پر منعقدہ اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوں ، حکومت مخالف گروپ میں جائیں یا پھر پریشر گروپ بنا کر حکومت کو مشکلات سے دوچار کیا جائے ، اس سلسلے میں بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کی بھی تجویز پیش کی جائے گی کیوں کہ پنجاب حکومت کے لئے اتنی بڑی تعداد میں اپنے حامی اراکین اسمبلی کی حمایت کھو دینے کے بعد بجٹ پاس کروانا ناممکن ہو گا ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *