جہانگیر ترین کی عمران خان سے ملاقات میں کیا رکاوٹ ہے

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر صحافی چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔حالات عجیب سے ہیں، سینیٹ کے چیئرمین نے سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے لئے اجلاس طلب کیا تو یوسف رضا گیلانی کو قائد حزبِ اختلاف کے طور پر بلایا گیا، اس پر مسلم لیگ(ن) نے اجلاس ہی کا بائیکاٹ کر دیا،

پیپلزپارٹی شریک ہوئی تاہم کمیٹیاں نہیں بن سکیں، کمیٹیوں کا قیام قواعد کے مطابق ایوان کا حصہ ہے،اِس لئے مسلم لیگ(ن) اور جمعیت علمائے اسلام کے بغیر بننے والی کمیٹیاں غیر فعال رہیں گی،اس حوالے سے پیپلزپارٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔یہ رویہ بھی پسند نہیں کیا گیا کہ اگر سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کو تسلیم نہ کیا گیا تو پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کا قائد حزبِ اختلاف نہیں مانے گی،اس سے اپوزیشن تقسیم ہو گئی ہے،اِس لئے پیپلزپارٹی کو راہِ راست اختیار کرنا ہو گی،اس طرح نہیں چل سکے گا۔قیادت کو خورشید شاہ ہی کی بات مان لینا چاہئے جو کہتے ہیں کہ اپوزیشن اکٹھی نہ ہوئی تو سیاسی طور پر نقصان اٹھائے گی۔ وہ گزشتہ دو سال سے اثاثہ ریفرنس میں گرفتار اور قید میں ہیں، سوئے اتفاق ان کی درخواست ضمانت بھی زیر التوا چلی آ رہی ہے،ان کی رہائی حزبِ اختلاف کے لئے خوش بختی ہو گی اور وہ بھی اپوزیشن کے درمیان مفاہمتی پل بن سکتے ہیں،جو وقت کی ضرورت ہے۔مَیں نے گذارش کی تھی کہ جہانگیر ترین کی صلح میں رکاوٹ ہے، تاہم وہ خود بہت مطمئن ہیں، حالانکہ عندیہ ملا، ملاقات کا وقت نہیں ملا،وہ کہتے ہیں کہ ان کے حامی وزیراعظم سے ملیں گے، تاہم ابھی تک وقت نہیں دیا گیا۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *