جہانگیر ترین کے معاملے پر مجیب الرحمان شامی کا دبنگ موقف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔احتساب کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں پر اب اپنے بھی چیخ اٹھے ہیں۔جہانگیر ترین کہ شوگر انڈسٹری میں جن کا حصہ 20فی صد کے قریب ہے، ایف آئی اے کی زد میں ہیں، ان پر اور

ان کے بیٹے پر مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ بنک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں، وہ عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کرنے میں لگے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ تحریک انصاف کے اندر اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کرتے جا رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے بائیس اور قومی اسمبلی کے آٹھ ارکان ان کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں، اور حکومت کے اندر موجود بعض غیر منتخب افراد کو ملزم قرار دے رہے ہیں۔گویا تحریک انصاف کی وفاقی اور پنجاب حکومت کی عددی اکثریت شدید خطرے میں ہے۔ اگرچہ ابھی تک وزیراعظم عمران خان کے خلاف بغاوت کا پرچم نہیں لہرایا گیا، اختلاف کرنے والے ان کو اپنا لیڈر تسلیم کرتے اور انہی سے توقعات وابستہ کرتے نظر آتے ہیں،لیکن سیاست کی اپنی زبان ہوتی ہے،یہ زبان بہت کچھ ایسا کہہ رہی ہے جسے سننے اور سمجھنے کے لئے کسی افلاطونی بصیرت کی ضرورت نہیں۔وزیراعظم عمران خان کے بعض معاونین اور مصاحبین اپنے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کے خلاف اقدامات کو میرٹ کا کرشمہ قرار دے رہے ہیں۔ داد لے رہے ہیں کہ ان کی حکومت دوست دشمن سے یکساں سلوک کر رہی ہے۔ قانون سب کے لئے ایک ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اور عمران خان کی ٹوپی میں ایک اور پَر لگا دیا گیا ہے، لیکن معاملہ اتنا سادہ اور آسان نہیں ہے۔جہانگیر ترین ہوں، یا اٹھارہ، انیس دوسری شوگر ملیں، احتساب کا یہ طریق دُنیا میں کہیں رائج نہیں جو پاکستان میں اپنایا جا رہا ہے۔حکومت کے مخالف ہوں یا حامی، برسوں پرانے، اور طے شدہ

معاملات کی کرید پڑتال کر کے اگر اب مقدمات بنائے جائیں گے تو اس سے نہ سیاست چلے گی نہ بزنس چل سکے گا۔ پاکستانی ریاست پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہے، اس کی صنعتی استعداد بہت محدود ہے، اس کی جی ڈی پی پھیلی نہیں سکڑی ہے، اسے کاروبار کے مواقع وسیع کرنے اور سرمایہ کاروں کے حوصلے بلند کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کے بغیر دولت پیدا نہیں کی جا سکتی۔دولت پیدا نہیں ہو گی تو ٹیکس وصولیوں میں کیسے اضافہ ہو گا؟ یہ اضافہ نہیں ہو گا تو ریاست اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہیں ہو گی، اس کا کشکول بڑا ہوتا جائے گا۔ اس لیے صنعتی شعبے میں جس اصلاح کی، اور جس تبدیلی کی ضرورت ہے، وہ سٹیک ہولڈرز کا اعتماد حاصل کیے بغیر ممکن نہیں ہو گی۔پاکستانی صنعت کاروں کو فیصلہ سازی میں شریک کیے اور ان کا اعتماد حاصل کیے بغیر پاکستان کو خوشحال نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ بات ہر اُس شخص کو کان کھول کر سن لینا چاہیے، جو پاکستان کی حفاظت کا دعویٰ رکھتا، اور اس کے محفوظ مستقبل کی خاطر جان کی بازی لگانے کو تیار رہتا ہے۔ منفی سوچ کے حامل غیر ذمہ دار تو وقت آنے پر بریف کیس اٹھا کر بھاگ جائیں گے،22کروڑ عوام کو یہیں رہنا ہے، ان کی زندگی آسان بنایے۔ چینی کی قیمت پر جو جھگڑا شروع ہوا ہے، تفتیشی اداروں کی مداخلت نے اسے بگاڑا ہے۔گنے اور چینی دونوں کو آزاد مارکیٹ کے سپرد کردیجیے، یا دونوں کی قیمت کا منصفانہ تعین کرنے کا انتظام کیجیے۔ ڈنڈا گھمانے سے سر پھٹول ہو سکتی ہے ، دِل نہیں جیتے جا سکتے اور ترقی بھی نہیں ہو سکتی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *