جہانگیر ترین گروپ ، مسلم لیگ ق اورایم کیو ایم

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار شاہزاد انور فاروقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ حکومت کے پاس کیا متبادل راستے ہیں؟ وزیراعظم عمران خان اگلے الیکشن میں جانے سے پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشین ( ای وی ایم) اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں

اور اس مقصد کے حصول کے راستے میں وہ کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرینگے۔ یہ ان کا سب سے پہلا اور بڑا ٹارگٹ ہے جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہیں گے۔ اس سے کم پہ وہ کسی صورت راضی نہیں ہوں گے۔دوسرے نمبر پر وہ چاہیں گے کہ جانے سے پہلے اگلے آرمی چیف اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی کا نوٹیفکیشن جاری کر جائیں جو شاید آئینی طورپر مئی 2022ء کے بعد وہ جاری کر سکیں گے۔ اب بات اگر مئی تک چلی گئی تو پھر جون میں بجٹ پاس کیے بغیر اس حکومت کو گھر بھیجنا سمجھ میں مشکل سے آئیگا ۔ اس تمام عمل کے دوران سب سے اہم معاملہ مہنگائی اور عام آدمی کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے بھی وہ چند ضروری اقدامات کرینگے۔ یہ راشن میں اور پٹرول میں سبسڈی صرف لفظ آغاز ہیں۔ درون خانہ مزید اقدامات پر کام کیا جارہا ہے جو شاید ایک آدھ مہینے میں ہی سامنے آجائینگے۔ اسکے بعد وہ زبردست طریقے سے حکومتی کارکردگی عوام کے سامنے رکھیں گے جس کیلئے پرنٹ’ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جائیگا جس کیلئے اربوں روپے کی گنجائش پیدا کرنا پڑیگی۔ اس دوران سرکاری ملازمین کے ریلیف کی تجاویز پر کام کیا جارہا ہے مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور وفاق کے علاقوں میں پرائیویٹ اداروں میں کام کرنیوالے ملازمین کی اجرت بڑھانے کا اعلان کرنے والے ہیں اور اسکے عمل درآمد کیلئے تمام حکومتی مشینری کا بھرپور استعمال کیا جائیگا۔ویسے پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں اسی حوالے سے کام کرنے کا ارادہ کرلیا ہے اور وہ بھی نجی اداروں سے کم ازکم اجرت پچیس ہزار روپے پر عمل درآمد کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف میڈیا ورکرز کو بھی ایک بڑا ریلیف دینے کے منصوبے پر کام کررہی ہے جس کے خدوخال پر کام کیا جارہا ہے۔ہمارے ہاں ایک کہاوت ہے۔ ’’سہاگن وہ جو پیامن بھائے‘‘تو ’’پیا‘‘ کامن کس طرف ہے اس کا بھی جلد پتہ چل جائے گاتو ’’پیا‘‘ نے بتانا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور تحریک لبیک کے مابین اتحاد قائم ہوتا ہے یا جہانگیر ترین، مسلم لیگ ق ،ایم کیو ایم مل کر کچھ اور کرنے کی کوشش کرینگے؟ تحریک لبیک پاکستان کیا فیصلہ کرتی ہے؟ یا کس کے حق میں فیصلہ کرتی ہے، یہ دیکھنا پڑے گا۔ دوسری صورت میں جہانگیر ترین اور ق لیگ وغیرہ اکٹھے ہوگئے تو بال پیپلز پارٹی کے کورٹ میں چلی جائے گی۔کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کس کا نیت شوق بھر جائے اور کون’کس کے دل سے کب اتر جائے’ بہرحال پردہ اٹھنے کو ہے !