جہانگیر خان ترین کا واضح اعلان

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگارچوہدری محمد اکرم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔جہانگیر ترین کہتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ آج وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تعلقات ماضی جیسے نہیں رہے لیکن اس کے باوجود وہ آج بھی دل و جان سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اور وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہیں۔

زندگی میں اور سیاسی معاملات کے دوران تعلقات میں اتار چڑھاؤ او آتا رہتا ہے۔ عمران خان کے ساتھ احترام کا رشتہ اب بھی قائم ہے۔ عمران خان سے دور ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میرا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جماعت کو جب بھی میری ضرورت ہوگی جب بھی مجھے بلایا جائے گا میری خدمات ہر طرح سے حاضر ہیں۔ میں عمران خان کے ساتھ کسی عہدے، وزارت کے لیے نہیں چلا تھا۔ میرا مقصد ملک میں نئی سیاسی جماعت کو کھڑا کرنا اور عوام کو باری حکومت کرنے والے مفاد پرست عناصر سے چھٹکارہ دلانا تھا۔ ایسے حکمرانوں سے چھٹکارہ دلانا تھا جنہوں نے ملک و قوم کو قرضوں کے جال میں پھنسایا اور نسلوں کو مقروض کر دیا۔ مجھے عمران خان سے کسی عہدے یا کسی بھی قسم کے فائدے کا لالچ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف ہونے کے باوجود میں آج بھی مقصد سے جڑا ہوں۔ میرا عمران خان سے تعلق مقصد سے تعلق ہے اور وہ مقصد ملک و قوم کی بہتری ہے۔چینی سکینڈل کے حوالے سے جہانگیر خان ترین کہتے ہیں کہ میرا اس میں کوئی منفی کردار نہیں ہے نہ میں نے کوئی غیر قانونی کام کیا ہے۔ میں یہاں بیٹھا ہوں اپنا کاروبار کر رہا ہوں اور ہر طرح کی تحقیقات کے لیے پہلے بھی خود کو پیش کیا آئندہ بھی حاضر ہوں۔ اس سارے عمل میں کوئی غلطی کوتاہی ضرور ہو سکتی ہے لیکن چینی کی قیمتیں بڑھانے میں میرا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ سارا معاملہ ڈیمانڈ اینڈ سپلائی، پروڈکشن کاسٹ، انٹرنیشنل مارکیٹ کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جب ملک میں چینی کی فی کلو لاگت میں اضافہ ہوا تو پھر قیمت میں اضافہ کیسے رک سکتا ہے۔ جب بجلی، گیس، پیٹرول، گنے کی قیمت بڑھ جائے تو چینی کی قیمت کیسے کم رہ سکتی ہے۔ جب گنے سے لے کر چینی تیار کرنے والی ہر چیز مہنگی ہو جائے تو پھر چینی ساٹھ روپے فی کلو کیسے فروخت ہو گی۔ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ حکومت چینی امپورٹ نہ کرے اگر حکومت چینی امپورٹ کرنا چاہتی ہے ضرور کرے لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی صلاحیت کے مطابق ملک میں جتنی چینی کی ضرورت ہوتی ہے وہ پیدا کرتے ہیں۔ حکومت کو کس نے روکا ہے ناجائز منافع خوروں کے خلاف ایکشن نہ کرے، مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف ایکشن ضرور کرے۔ میں حکومت میں کاروبار کرنے کے لیے تو نہیں آیا تھا میرا بزنس تو پہلے سے چل رہا ہے میں نے کبھی کسی معاملے پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔ چودھری صاحب میں اس ملک سے ہوں، یہ میرا ملک ہے۔ میرا سب کچھ اسی ملک سے منسلک ہے۔ جو کچھ ملک نے مجھے دیا ہے وہ لوٹا سکوں تو بہت خوش قسمتی ہو گی۔

Comments are closed.