جہانگیر خان کی زندگی اور عروج کی حیرت انگیز کہانی بی بی سی کی زبانی

لاہور (ویب ڈیسک) ذرا تصور کیجیے کسی بچے کے والدین کو یہ معلوم ہو کہ وہ ہرنیا کی بیماری میں مبتلا ہے اور اسے دو مرتبہ سرجری کے مرحلے سے گزرنا ہو گا تو کیا وہ اپنے بچے کو سکواش جیسا سخت کھیل کھیلنے کی اجازت دیں گے؟یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ

نامور صحافی عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ ایک باپ اپنے بڑے بیٹے کو کھیلنے کے دوران زندگی کی بازی ہارتا ہوا دیکھ لے تو کیا وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو وہی کھیل کھیلنے کی اجازت دے گا؟سکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کو اپنی ابتدائی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھنے پڑے۔ 12 سال کی عمر تک پہنچنے تک ان کے دو ہرنیا کی سرجریز ہو چکی تھیں لیکن سب سے بڑا دھچکا بڑے بھائی کی موت تھی جس نے ان کی دنیا ہی بدل دی۔اگر کوئی دوسرا ہوتا تو وہ کب کا اپنے خوابوں کو سمیٹ کر بیٹھ جاتا لیکن جہانگیرخان کے مضبوط ارادوں نے انھیں سکواش کی تاریخ کا سب سے کامیاب کھلاڑی بنا ڈالا۔جہانگیر خان کے کریئر میں عام طور پر تین اشخاص کے اہم کردار کا ذکر آتا ہے جن میں ان کے والد روشن خان، بڑے بھائی طورسم خان اور چچا زاد بھائی رحمت خان شامل ہیں جو ان کے کوچ بھی رہے لیکن جہانگیرخان کبھی بھی اپنی والدہ کی قربانیوں کو نہیں بھولتے۔جہانگیرخان کہتے ہیں ʹپٹھان روایات کی وجہ سے والدہ ہمیشہ پردے میں رہیں اور کبھی بھی انھوں نے سکواش کورٹ میں آ کر مجھے کھیلتے نہیں دیکھا لیکن کھیل کی معلومات نہ ہونے کے باوجود وہ میری کامیابی کے لیے ہر وقت دعاگو رہتی تھیں۔کھیل کے بارے میں وہ مجھ سے کبھی براہ راست بات نہیں کرتی تھیں البتہ میرے والد سے میری کارکردگی کے بارے میں مستقل پوچھتی رہتی تھیں۔میرے والد مجھے بتاتے تھے کہ تمہاری والدہ اس وقت تک مصّلے سے نہیں ُاٹھتی تھیں جب تک تم جیت نہیں جاتے۔

روشن خان، جہانگیرخان کی صحت کے بارے میں بہت فکرمند تھے کیونکہ ڈاکٹرز کہہ چکے تھے کہ جہانگیرخان کی جسمانی حالت ایسی نہیں کہ وہ کبھی بھی سنجیدہ قسم کی سکواش کھیل سکیں۔روشن خان چونکہ خود عالمی چیمپیئن رہ چکے تھے اور ان کے بڑے بیٹے طورسم خان بھی انٹرنیشنل کھلاڑی تھے لہٰذا جہانگیرخان کے لیے کیسے ممکن تھا کہ وہ اس کھیل سے خود کو دور رکھتے۔جہانگیرخان نے جب رحمت خان کے ساتھ ورلڈ چیمپئن بننے کی ٹریننگ شروع کی تو رحمت خان نے ایک دن انھیں ایک ریکٹ دیا اور کہا کہ اسے توڑو۔جہانگیرخان حیران ہوئے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں تاہم اپنے کوچ کے حکم پر انھوں نے اسے گھٹنے پر مارکر توڑ دیا۔رحمت خان نے اس موقع پر جہانگیر خان کو مزید دو ریکٹس دیے اور کہا کہ ان دونوں کو ایک ساتھ توڑو۔ جہانگیرخان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ رحمت خان کیا چاہتے ہیں لیکن انھوں نے ان کے کہنے پر دونوں ریکٹس کو گھٹنے پر مارکر توڑنا چاہا جو ٹوٹ نہیں پائے اور ُمڑ گئے۔رحمت خان نے ان سے کہا کہ ایک کو توڑنا آسان ہوتا ہے لیکن دو کو توڑنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا اگر ہم ایک ہو کر رہے تو ہمیں کوئی بھی الگ نہیں کر سکے گا۔ دراصل یہ نوجوان جہانگیرخان کے لیے پہلا سبق تھا کہ انھیں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا ہے۔جہانگیرخان اپنے بھائی طورسم کے پاس رہ کر ٹریننگ کرتے ہوئے بہت خوش تھے اس دوران انھوں نے 15 سال کی عمر میں دنیا کا سب سے کم عمر ورلڈ امیچر چیمپیئن بن کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

جہانگیر خان کی اس جیت میں طورسم خان کی کوچنگ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا جو خود انگلینڈ میں تھے لیکن آسٹریلیا میں ہونے والی عالمی چیمپئن شپ میں اپنے چھوٹے بھائی کو فون کر کے ہر میچ سے قبل حریف کھلاڑی سے متعلق معلومات اور حکمت عملی بتا رہے تھے اور جہانگیر خان ان کی ہدایات پر مکمل عمل کر رہے تھے۔طورسم خان جب آسٹریلین اوپن میں حصہ لینے کے لیے ایڈیلیڈ جانے لگے تو انھوں نے اپنے دیرینہ دوست ہدی جہاں سے کہا کہ انھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب اپنا کریئرختم کر کے جہانگیرخان کو ورلڈ چیمپئن بنانے پر توجہ دیں گے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔آسٹریلین اوپن میں نیوزی لینڈ کے نیون باربر کے خلاف دوسرے راؤنڈ کا میچ کھیلتے ہوئے طورسم خان اچانک سکواش کورٹ میں گر پڑے۔یہ منظر دیکھنے والوں میں ہدی جہاں بھی موجود تھے۔ شائقین میں موجود ایک ڈاکٹر نے فوری طور پر طورسم خان کا معائنہ کیا اور انھیں ہسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق انھیں دل کا دورہ پڑا تھا اور ان کا دماغ بری طرح متاثر ہوا تھا۔ ہدی جہاں اور گوگی علاؤالدین پر سکتہ طاری تھا دونوں کھلاڑی تمام وقت ہسپتال میں موجود رہے تھے۔طورسم خان چند روز تک لائف سپورٹنگ مشین پر رہے لیکن پھر ڈاکٹروں نے جواب دے دیا۔ روشن خان کے لیے مشین بند کر دینے کا فیصلہ کرنا کسی طور بھی آسان نہ تھا اور انھوں نے دل پر پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کیا۔28 نومبر 1979 کو جیسے جہانگیر خان کی دنیا اندھیری ہو گئی۔ بڑے بھائی کی موت نے ان کے تمام خواب بکھیر کر رکھ دیے تھے۔تین ماہ تک وہ سکواش سے بالکل دور رہے۔ درحقیقت وہ مزید کھیلنا بھی نہیں چاہتے تھے لیکن پھر انھیں یہ کہہ کر مجبور کیا گیا کہ ورلڈ چیمپیئن بننے کا خواب طورسم خان کا ہی تھا لہٰذا اس خواب کی تکمیل ضروری ہے۔اس خواب کی تکمیل دو برس بعد 1981 کی ورلڈ اوپن ٹورنٹو میں ہوئی جس میں جیف ہنٹ اپنے عالمی اعزاز کا دفاع کررہے تھے وہ لگاتار چار سال سے عالمی اعزاز جیت رہے تھے اور اسی سال برٹش اوپن کے فائنل میں جہانگیر خان کو ہرا کر انھوں نے ہاشم خان کا سات بار برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ بھی توڑا تھا لیکن ٹورنٹو میں ان کے مضبوط اعصاب نوجوان جہانگیر خان کے جوشیلے کھیل کے سامنے جواب دینے لگے تھے اور چوتھے گیم میں سکواش کی حکمرانی کا تاج ان کے سر سے اتر کر جہانگیر خان کے سر پر سج چکا تھا۔یہ 28 نومبر وہی تاریخ تھی جب طورسم خان اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے لیکن دو سال بعد اسی تاریخ کو ان کے خواب کی تعبیر دنیا دیکھ رہی تھی۔محض 17 سال کی عمر میں ورلڈ چیمپیئن بننے والے جہانگیر خان کے لیے یہ ایک جذباتی موقع تھا کیونکہ وہ خوشی اور غم کی کیفیت کو ایک ساتھ محسوس کر رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *