جہانگیر خان کی زندگی کا ایک دکھڑا اور کچھ حیران کن حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) 28 نومبر 1981 کو دنیا صحیح معنوں میں جہانگیر خان کے نام سے آشنا ہوئی تھی جب وہ ٹورنٹو میں کھیلی گئی ورلڈ اوپن کے فائنل میں آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کو شکست دے کر دنیا کے سب سے کم عمر ورلڈ چیمپیئن بنے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک فاتح عالم کی طویل حکمرانی کا آغاز تھا۔

نامور صحافی عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہانگیر خان کے لیے ورلڈ چیمپیئن بننا دراصل ایک خواب کی تعبیر تھا جسے کسی اور نے نہیں بلکہ ان کے اپنے بڑے بھائی طورسم خان نے دیکھا تھا لیکن زندگی نے وفا نہیں کی اور جب جہانگیرخان ورلڈ چیمپیئن بنے تو وہ اس دنیا میں نہیں تھے۔اسے اتفاق کہیے کہ جس روز جہانگیر خان ورلڈ چیمپیئن بنے اس سے ٹھیک دو سال پہلے یعنی 28 نومبر 1979 کو طورسم خان کا انتقال ہوا تھا۔ وہ ایڈیلیڈ میں آسٹریلین اوپن کا میچ کھیلتے ہوئے سکواش کورٹ میں گر پڑے اور پھر بے ہوشی میں ہی ان کا انتقال ہوگیا تھا۔جہانگیرخان کہتے ہیں کہ ان کے کریئر پر بڑے بھائی طور سم خان کا بہت گہرا اثر تھا۔ وہ انہی کے کہنے پر انگلینڈ میں ان کے پاس رہنے لگے تھے۔ طورسم خان کا خیال تھا کہ وہ انگلینڈ میں تعلیم کے ساتھ ساتھ سکواش بھی بہتر طور پر کھیل سکیں گے۔جہانگیر خان کو یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ جب انہوں نے صرف پندرہ سال کی عمر میں ورلڈ امیچر سکواش چیمپیئن شپ جیتی تو طورسم خان ان کے ساتھ آسٹریلیا میں نہیں تھے لیکن ہر میچ سے قبل انگلینڈ سے فون کر کے وہ ان سے بات کرتے تھے اور حریف کھلاڑی کے بارے میں معلومات ہونے کی وجہ سے وہ انھیں گائیڈ کرتے تھے کہ اس کے خلاف کس طرح کھیلنا ہے۔جہانگیرخان کا کہنا ہے کہ طورسم خان ان کے لیے سب کچھ تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی موت نے انھیں

صدمے سے دوچار کر دیا تھا اور انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب دوبارہ اسکواش نہیں کھیلیں گے۔طورسم خان کے انتقال کے بعد جہانگیر خان کی تربیت کی ذمہ داری ان کے چچازاد بھائی رحمت خان نے سنبھال لی تھی جو خود بھی پروفیشنل سکواش کھیل رہے تھے لیکن جہانگیرخان کے لیے انہیں اپنا کریئر ختم کرنا پڑا۔رحمت خان کا کہنا ہے کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے جب روشن خان نے ان سے کہا تھا کہ ایک بیٹا چلا گیا اب وہ دوسرا بیٹا کھونا نہیں چاہتے جس پر انھوں نے روشن خان سے کہا تھا کہ یہ طورسم خان کی خواہش تھی کہ جہانگیر ورلڈ چیمپیئن بنے اور ہمیں یہ خواہش پوری کرنی ہے۔رحمت خان کا کہنا ہے کہ وہ جہانگیرخان کو ٹریننگ کے لیے اپنے ساتھ انگلینڈ لے جانا چاہتے تھے لیکن ائیرمارشل ( ریٹائرڈ ) نورخان کا خیال تھا کہ جہانگیر کو پاکستان میں ہی ٹریننگ کرنی چاہیے تاہم بعد میں انھوں نے انہیں اس بات کی اجازت دے دی کہ جہانگیرخان کو وہ اپنے ساتھ لے جائیں لیکن اس شرط پر کہ جہانگیرخان کو تین سال کے عرصے میں ورلڈ چیمپیئن بنانے کی ذمہ داری قبول کریں بصورت دیگر وہ قوم کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔عالمی چیمپیئن بننے کے پانچ ماہ بعد ہی جہانگیرخان نے برٹش اوپن کا ٹائٹل بھی پہلی بار ہدایت جہاں کو ہرا کر اپنے نام کرلیا۔ آنے والے برسوں میں یہ برٹش اوپن صرف اور صرف جہانگیرخان کے نام سے یاد رکھی جانے لگی جنہوں نے لگاتار دس سال یہ ٹائٹل جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی۔جہانگیرخان سے قبل سب سے زیادہ آٹھ مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کا قائم کردہ تھا۔جیف ہنٹ کہتے ہیں کہ انھوں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ جہانگیرخان مسلسل دس سال برٹش اوپن جیتیں گے یقیناً یہ ایک کارنامہ ہے۔جہانگیرخان کا کہنا ہے کہ جب وہ جیف ہنٹ کے ریکارڈ کے قریب آرہے تھے تو پوری قوم کی توقعات میں بھی اضافہ ہوگیا تھا اور وہ بہت زیادہ دباؤ محسوس کررہے تھے لیکن چونکہ برٹش اوپن سے ان کی جذباتی وابستگی ہوچکی تھی اس لیے وہ اس ٹورنامنٹ کے لیے سخت ٹریننگ کرتے تھے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آخری چار برسوں میں انہوں نے راڈنی مارٹن اور جان شیر خان کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔