حاتم طائی کی سخاوت کا ایک بے مثال ان سنا واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک دفعہ کوئی قبیلہ حضور ؐ سے بغرض ملاقات آیا، تو آپ نے فرمایا کہ آپ لوگوں کا سردار کون ہے؟ لوگوں نے بتایا، کہ فلاں شخص جو بے حد مال دار، مگر انتہائی بخیل ہے، آپ نے فرمایا،

کہ ”بخل“ سے زیادہ کوئی بیماری نہیں، آپ نے فرمایا ، کہ تمہارا سردار بشر بن ابراہ ہوگا، کیونکہ وہ زیادہ سخی اور فراخ دل تھے، اللہ تعالیٰ اور ان کے حبیب کو سخاوت بے حد پسند ہے، حاتم طائی، جن کی سخاوت کا ڈنکا، ہزار سالوں سے اب بھی بجتا ہے حضور کو بھی ان کی فراخ دلی کی قدرتھی، ایک دفعہ حاتم طائی کی بیٹی ان سے ملنے آئی، تو آپ نے ان کی خوب آﺅ بھگت کی، حتیٰ کہ آپ نے وہ چادر مبارک، جو وہ پہلے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے بچھا دیتے تھے، ان کے لیے بچھا دی تھی، اور فرمایا تھا، کہ حاتم طائی مسلمان ہوتا، تو یقیناً جنت میں ہوتا حاتم طائی کے بیٹے عدی ابن حاتمؓ صحابی رسول اللہ تھے، اور انہوں نے اسلام قبول کرکے یہ مقام ومرتبہ حاصل کرلیا تھا، کہا جاتا ہے، کہ ایک دفعہ ایک صحابی رسول سے سوال کیا، کہ کیا وجہ ہے، کہ اتنی خدمت خلق ، اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پہ بے تحاشا خرچ کرنے کے باوجود کہ اس نے اسلام کیوں قبول نہیں کیا تھا پہلے ان کی سخاوت کا ایک واقعہ بلکہ ایک مثال سن لیں، ایک دفعہ کچھ لوگ قحط کے دنوں میں جنہوں نے حاتم طائی کی سخاوت کے بارے میں سن رکھا تھا، اور وہ اس نیت سے آئے تھے، کہ وہ حاتم طائی کا ایک خوبصورت گھوڑا، جس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی، اس سے مانگیں گے، اتفاق کچھ ایسا ہوا، کہ وہاں پہنچتے ہی موسلادھار

بارش شروع ہوگئی، اور وہ مسلسل کئی روز تک جاری رہی، اور حاتم طائی روز ان کی مہمان داری کی خاطر گھوڑا ذبح کردیتے تھے، آخر جب بارش تھمی تو انہوں نے جانے کی اجازت مانگی، اور ساتھ اپنا مدعا بیان کیا، کہ ہمیں آپ کا فلاں گھوڑا بہت پسند ہے، ہم نے آپ کی سخاوت کا چرچا سنا ہوا ہے ہم وہ آپ سے لینے آئے ہیں، یہ سن کر حاتم طائی نے بے حد دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ پہلے بتاتے وہ گھوڑا تو میں نے آپ کی ضیافت کیلئے آج ہی ذبح کردیا ہے، ایک دفعہ حضرت ےحییٰ علیہ السلام کو ابلیس اصلی شکل میں نظرآیا ، تو آپ نے ابلیس سے پوچھا ، کہ تمہیں کس سے محبت ہے، اور کس سے نفرت ہے ، تو اس نے کہا کہ مجھے بخیل مسلمان سے محبت ہے، اور فاسق سخی سے محبت کرتا ہوں، کہ کہیں اللہ تعالیٰ سخاوت کی وجہ سے اسے راہ ہدایت نہ دے دے، مومن بخیل اس لیے پسند ہے، کہ سیدھی راہ پر چلنے کیلئے کا بخل ہی کافی ہے، اور حضور کا نام سن کر اگر کوئی مسلمان ان پر درود پاک نہ پڑھے، تو اسے بھی آپ نے بخیل کہا ہے ، میں آپ کو ایک پیمانہ قرب الٰہی بتاﺅں بقول بابا اللہ رکھا مرحوم اگر کسی عالم، فاضل، کی تقریر سنتے وقت، اگر آپ یہ نوٹ کریں، کہ وہ آپ کا نام لیتے وقت اگر صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہتا، تو وہ بھی بقول حضور” بخیل ہے“۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *