حادثات کم کرنے کے لیے کارساز کمپنیوں نے کیا انوکھی تجویز سامنے رکھ دی ؟

لندن (ویب ڈیسک) کار ساز کمپنیاں اور سڑک پر حفاظت کے ماہرین یورپ کی سڑکوں پر تیزرفتاری کو روکنے کے لیے بہترین ٹیکنالوجی کے بارے میں بحث کر رہے ہیں۔ یوروپی یونین ایک ایسی کٹ کی تجویز دے رہی ہے جو رفتار کی حد تک پہنچ جانے پر کار کے ایکسیلریٹر پیڈل کو

عارضی طور پر غیر موثر کر دے۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔اس نظام کو غیر فعال کرنے اور جان بوجھ کر حد کو توڑنے کے لیے کار ڈرائیور کو پیڈل پر زور دینا پڑتا ہے۔کار ساز کمپنیوں نے گاڑیوں کے ڈیش بورڈ پر جلنے والی بتی کا سستا آپشن تجویز کیا۔جمعرات کو یورپی یونین کے تکنیکی ماہرین کے اجلاس میں اس مسئلے پر بحث ہو گی۔ بریگزٹ کے باوجود اس اجلاس میں جو بھی نظام منتخب کیا جاتا ہے وہ برطانیہ میں لاگو ہو سکے گا۔تمام ماہرین اور کار ساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ان کا مجوزہ نظام ڈرائیورز کو کم پریشان کرے گا۔حفاظتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے کیے گئے تجربے سے پتا چلتا ہے کہ ڈرائیور گاڑیوں کے ڈیش بورڈ میں جلنے والی بتی سے چڑتے ہیں، لہٰذا وہ کار میں بیٹھتے ہی اس نظام کو بند کر دیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ سمارٹ تھروٹل ڈرائیورز کو اتنا تنگ نہیں کرتا ہے۔یورپی ٹرانسپورٹ سیفٹی کونسل (ای ٹی ایس سی) سے تعلق رکھنے والے ڈوڈلی کرٹس نے بتایا کہ ’ہمیں خدشہ ہے کہ اس بحث کا حتمی نتیجہ اس نظام کا ایک کمزور ورژن ہو سکتا ہے جس میں جان بچانے کی بہت کم صلاحیت موجود ہے۔‘جبکہ کار سازوں کی ایسوسی ایشن (اے سی ای اے) کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی جدت کی بھی حمایت کرتی ہے۔ایک ترجمان نے بتایا کہ وہ انتباہی روشنی کے ساتھ کام کرنے والا ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس کے بعد بیپ یا پیڈل کی حرکت ہوتی ہو۔ان کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ

‘اس نظام کو زیادہ سے زیادہ ڈرائیورز کو اپنانے کی ضرورت ہے۔‘اس مقصد کے لیے اے سی ای اے نے ایک ایسے حفاظتی نظام کی تائید کی ہے جس میں ایک چمکتی روشنی والا انتباہی نظام ایک آواز کے ساتھ کام کرے۔’ای ٹی ایس سی کا کہنا ہے کہ ڈرائیورز کو متنبہ کرنے کے لیے یہ تین حصوں والا نظام بہت سست ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بیپ کے ساتھ ہونے والی آزمائشوں نے ڈرائیوروں کو صرف غصہ دلایا ہے خاص طور پر اگر ان کے ساتھ مسافر سوار ہوں۔اس منصوبے سے توقعات بہت زیادہ ہیں۔ حفاظتی منصوبوں کی منصوبہ بندی میں بڑے پیمانے پر فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف شہروں میں حادثات میں کمی ہو گی بلکہ سٹاپ سٹارٹ ڈرائیونگ سے کاربن کے کم اخراج کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے ایک پُرسکون سفر بھی ممکن ہو سکے گا۔حفاظتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدت مقامی کونسلوں کو بھی بہت زیادہ بچت فراہم کریں گی جنھیں سپیڈ بمپس لگانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔سڑکوں کی حفاظتی سکیم میں متعدد اقدامات شامل کرنے کی تجویز ہے، جن میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں:کاروں میں لگے کیمروں کے ذریعہ خود مختار ایمرجنسی بریک کا نظام۔۔پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کی پہچان۔۔دوران ڈرائیونگ نیند یا غنودگی کی وارننگ۔۔دوران ڈراییونگ اپنی لین چھوڑنے پر وارننگ۔۔اس منصوبے میں ٹرکوں کے لیے سامنے آنے والی چھوٹی گاڑیوں اور لاری ڈرائیورز کے لیے بلائنڈ سپاٹ انتباہات بھی شامل کیے جائیں گے۔سڑک پر حفاظت کے یہ معیارات اگلے برس اپریل تک مکمل کرنے ہیں

تاکہ سنہ 2022 تک کار ساز کمپنیاں نئے ماڈل پر اس ٹیکنالوجی کا استعمال ممکن بنا سکیں۔لہٰذا اس حوالے سے جمعرات کا دن اور اجلاس اہم ہے۔لیڈز یونیورسٹی کے اولیور کارسٹن نے اس ’انٹیلیجنٹ سپیڈ اسسٹنٹ ایکسیلریٹر‘ نامی پیڈل کو آزمایا۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ ’اس نظام نے ہمیں برطانیہ کے ڈرائیورز میں خصوصاً شہری سڑکوں پر تیز رفتاری کی حد کی تعمیل میں بڑے پیمانے پر بہتر نتائج دیے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں خدشہ تھا کہ اس کی جگہ بیپنگ سسٹم استعمال کرنے سے ڈرائیورز کو الجھن ہو گی لہٰذا وہ گاڑی میں قدم رکھتے ہی اس کو بند کردیں گے۔‘یورپی یونین کے کمشنر ایلزبیٹا بینکوسکا کا کہنا ہے کہ ’ہر سال 25 ہزار لوگ ہماری سڑکوں پر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان حادثات کی اکثریت انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’نئے جدید حفاظتی نظام سے ہمیں اسی طرح کا ردعمل مل سکتا ہے جیسا سیفٹی بیلٹ کی رونمائی پر آیا تھا۔‘نئے روڈ سیفٹی کے نظام پر اصولی طور پر اس وقت اتفاق کیا گیا تھا جب برطانیہ بھی یورپی یونین کا حصہ تھا لیکن برطانوی حکومت اس وقت تک نئے معیارات کو اپنانے کا عہد نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اپنے مستقبل کے تجارتی معاہدوں سے متعلق واضح قانون سازی نہیں کر لیتے۔امریکہ میں ان اقدامات کو اختیار نہیں کیا جارہا ہے، حالانکہ ای ٹی ایس سی کا کہنا ہے کہ امریکی کار سازوں نے بتایا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو آسانی سے وہاں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *