حالات حاضرہ پر پاک فوج کے ریٹائرڈ کرنل کی معلوماتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اور پا ک فوج کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے خیال میں انڈیا جو ڈبل گیم کھیل رہا ہے وہ یہ نہیں کہ تالبان سے بات چیت بھی کر رہا ہے اور افغان نیشنل آرمی کو ایمونیشن بھی فراہم کر رہا ہے……

انڈیا کی اصل ڈبل گیم یہ ہے کہ وہ اپنے کارگو جہازوں کی آمد و رفت دکھا کر اور ان میں لدے ہوئے ہتھیاروں کی تفصیل ”طشت ازبام“ کرکے دنیا اور پاکستان کو اپنے ان سٹرٹیجک عزائم سے بے خبر رکھنا چاہتا ہے جو وہ اور امریکہ مل کر مستقبل قریب میں کھیلنے والے ہیں۔آپ نے کبھی امریکن میڈیا پر افغانستان میں امریکی ناکامی پر بھی کوئی ٹاک شو دیکھا ہے؟ امریکی واقعی ایک ’عظیم قوم‘ ہیں، ان کے عزائم عظیم ہیں اور ان عزائم کی تکمیل کے پروگراموں کو زیرِ قالین رکھنا بھی ان کی قومی عظمت کی دلیل ہے۔ وہ قوم ہماری طرح ایک ہلکی، فرومایہ اور سُبک سر قوم نہیں کہ جلدی سے بھڑک اٹھتی ہے اور پھر جلدی ہی بجھ جاتی ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے امریکی انتظامیہ کو Absolutely Not کا بلند بانگ فیصلہ سنا کر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب امریکی انتظامیہ، ناراض وائٹ ہاؤس اور شکست خوردہ ساؤتھ بلاک کی ملی بھگت سے اپنے وہ سٹرٹیجک عزائم حاصل کرنا چاہتی ہے جس کا تعلق چند ٹن ہتھیاروں کی فراہمی سے نہیں۔ پاکستان کو چاہیے تھا کہ وہ غیر ملکی ٹروپس کے انخلاء اور انڈین اثر و رسوخ کے خاتمے کی کامیابی پر آپے سے باہر نہ ہوتا اور Absolutely Not کا ردِعمل سنانے کی بجائے تحمل، برداشت اور تدبر کا مظاہرہ کرتا۔کیا ہم چند روز پہلے کے لاہور والے واقعہ کو بھول گئے ہیں؟ اس وقت بھی ہمارے میڈیا نے ”را“ کے ملوث ہونے کا ڈھنڈورہ بڑے زور سے پیٹنا شروع کیا تھا…… اس کا انجام کیا ہوا؟

اگر یہ کوئی بڑی گیم تھی تو اس کو پاکستانی عوام کے سامنے ”بے نقاب“کرنے کی ضرورت کیا تھی؟…… کیا اداروں کو معلوم نہ تھا کہ ہم پاکستانی پیٹ کے بہت ہلکے ہیں؟کیا مغربی سرحد (بلوچستان) پر دشمن کے اٹیکس تیز تر نہیں ہوئے؟…… ہمارے وزیراعظم نے اچانک بلوچ تخریب کاروں اور عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیوں کیا؟ شاہ زین بگٹی کو جو فرائض سونپے گئے ان کا مآل ہمارے میڈیا پر کب دکھایا جائے گا؟…… فیٹف (FATF) نے پاکستان کو اب تک سرمئی فہرست میں رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے، کیا اس کی پشت پر امریکی اشیرباد نہیں؟ اور یہ جو گزشتہ دنوں جموں ائرفیلڈ پر ڈرون اٹیک کا شور مچا تھا، کیا وہ امریکی ملی بھگت کا نتیجہ نہ تھا؟ قارئین کرام! آپ دیکھتے جایئے پاکستان کو CPEC کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی!……پاکستان کو یہ قیمت چکانی بھی چاہیے، کیونکہ قوموں کی عظمت کا راز ان کی سخت آزمائش میں مضمر ہوتا ہے!ممکن ہے آنے والے ایام میں انڈیا، ہماری اس ائر فیلڈ پر اٹیک کر دے جس کو ہم نے پچھلے دنوں بین الاقوامی سٹیٹس دینے کا اعلان کیا ہے…… میری مراد سکردو انٹرنیشنل ائرپورٹ سے ہے۔ انڈیا یہ کہہ چکا ہے کہ گلگت۔ بلتستان متنازعہ علاقہ ہے، اس لئے اس علاقے میں انٹرنیشنل ائرپورٹ بنانا چہ معنی دارد…… اور یہی علاقے تو CPECکے داخلی دروازے ہیں …… انڈیا اور امریکہ مل کر ان علاقوں میں دھماچوکڑی بپا کر سکتے ہیں۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ چین، امریکہ تنازعے کو اس علاقے سے باہر رکھے۔ امریکہ کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو محفوظ و مامون رکھتا ہے اور دنیاکی دوسری سرزمینوں کو میدان ہائے لڑائی میں تبدیل کرنے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ پاکستانی عوام کو ان امریکی عزائم سے باخبر رکھنے کی ضرورت ہے نہ کہ Absolutely Not کے نعرہ کی سرخوشی اور سرمستی میں سرچھپا کر یہ باور کرنے کی کہ یہ بلا سر سے ٹل گئی ہے۔

Comments are closed.