حالات پیپلز پارٹی کو کس جانب لے جا رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نسیم شاہد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ بلاول بھٹو زرداری اب چاہے جتنا بھی ایڑھیاں اٹھا کر یہ کہتے رہیں کہ اصل اپوزیشن تو پیپلزپارٹی کر رہی ہے، ان کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ جو پارٹی ایک معمولی عہدے کے لئے حکومت سے

مفاہمت کر سکتی ہے، وہ اپوزیشن کیسے کرے گی اور پھر یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ اس وقت اپوزیشن پی ڈی ایم کر رہی ہے۔ اگر کوئی جماعت پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی مخالفت پر اُتر آئی ہے تو وہ اپوزیشن کی جماعت کیسے کہلا سکتی ہے۔ اس وقت پیپلزپارٹی یہ چاہتی ہے کہ اس نے اب تک جو کچھ کیا ہے پی ڈی ایم اس پر مہر تصدیق ثبت کر دے۔ یعنی لانگ مارچ ختم کرنے سے لے کر استعفوں کے استرداد تک اس کی باتوں کو پی ڈی ایم کے فیصلے قرار دے کر تسلیم کرے، نہ صرف یہ بلکہ سینیٹ میں اپوزیشن کو اندھیرے میں رکھ کر اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ہتھیانے پر بھی اپنی منظوری کا ٹھپہ لگا دے، اب ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ پیپلزپارٹی نے اتنے بُرے طریقے سے کیا ہے کہ سامنے کی مکھی بن گئی ہے، جسے پی ڈی ایم کی جماعتیں کسی صورت نگلنے کو تیار نہیں اب حالت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنما جن میں بلاول بھٹو پیش پیش ہیں۔ حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے مسلم لیگ (ن) پر طنز کے نشتر برسا رہے ہیں۔ اسی مسلم لیگ (ن) پر جو اس وقت اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت ہے اور جس کا بیانیہ حکومت کے خلاف بالکل واضح ہے۔ آج کل مسلم لیگ (ن) پر اتنی تنقید تحریک انصاف والے نہیں کر رہے، جتنی بلاول بھٹو اور ان کے حامی کر رہے ہیں۔اب اس صورت میں کون اس بات کو تسلیم کرے گا کہ پیپلزپارٹی اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہے یا اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ہم ملتانیوں کو اور کسی بات کا دکھ نہیں سوائے اس دکھ کے جو مرشد اعلیٰ نے اپنی سیاست کو داؤ پر لگا کر دیا ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اصولوں کی خاطر انہوں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ قربان کر دی۔ حالانکہ لوگ ان کے اس دعوے پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے اصولوں کی خاطر وزارتِ عظمیٰ چھوڑی تھی یا آصف علی زرداری کی خاطر، اصول یہی کہتا تھا کہ وہ ریاستِ پاکستان کی وفاداری کا حلف اٹھائے ہوئے ہیں تو اس کے اثاثے واپس لانے کی خاطر سوئس حکومت کو خط لکھتے، تاہم اس کے باوجود انہیں اپنے اس فیصلے پر فخر رہا، مگر یہاں تو انہوں نے واضح طور پر بے اصولی کی ہے۔ وہ پی ڈی ایم کی حمایت سے سینیٹر بنے، گویا اصول یہ تھا کہ وہ اس کے ساتھ کھڑے ہوتے، انہوں نے پی ڈی ایم سے بے وفائی کی اور حکومتی حمایت یافتہ لوگوں کو ساتھ ملا کر اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ کہاں گئی ان کی اصول پسندی، کہاں پوری اپوزیشن اور کہاں وہ لولی لنگڑی اپوزیشن جس کی نمائندگی اب انہیں حاصل ہے۔ وقت گزرے گا تو انہیں احساس ہو گا کہ وہ درمیان میں سینڈوچ بن گئے ہیں، اپوزیشن میں ہیں اور نہ حکومت میں، بس درمیان میں لٹکے ہوئے ہیں، جن کا کام حکومت کی حمایت اور اپوزیشن کی مخالفت کرنا رہ جائے گا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *