حالات کشیدہ ہو گئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) افغانستان کی وزارت خارجہ کے ایک اعلان کے مطابق صدر اشرف غنی کے حکم پر پاکستان میں افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل سمیت تمام سفارتی عملے کو واپس بلا لیا ہے۔افغان صدر نے سفارتی عملے کو پاکستان سے واپس بلانے کا فیصلہ افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ

اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعہ کی روشنی میں کیا ہے۔ادھر وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے افغان سفیر کی بیٹی کے کیس میں شکوک کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو واقعے کی اولین ترجیح کے طور پر تحقیقات کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔افغانستان کے سفیر نجیب اللہ کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گذشتہ روز میری بیٹی کو اسلام آباد میں اٹھا لیے جانے کے بعد زدوکوب کیا گیا ان کی طبیعت اب بہتر ہے۔ اس غیر انسانی حرکت کی دونوں ممالک کے متعلقہ حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔‘افغان سفیر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان کی بیٹی سے منسوب ایک تصویر سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی بیٹی کی تصویر بھی ٹویٹ کی۔افغانستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ پاکستان میں افغانستان کے سفیرکی بیٹی کو کئی گھنٹوں تک غائب رکھا گیا بیان میں مزید کہا گیا کہ ’وزارت خارجہ اس گھناؤنے اقدام کی شدید مذمت کرتا ہے اور پاکستان میں سفارتی عملے، ان کے اہل خانہ اور افغان سیاسی اور قونصلر مشنز کے عملے کے ممبروں کی حفاظت اور سلامتی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔‘ پولیس کو جو معلومات ملی ہیں وہ واقعہ جمعے کے روز دن ڈیڑھ بجے کا ہے جبکہ ریکارڈ کے مطابق ٹیسٹ کروانے کے لیے وہ رات نو بجے کے بعد پمز ہسپتال پہنچے ہیں۔اہلکار کا کہنا تھا کہ افغان سفیر کی بیٹی اس سے پہلے ایف ایٹ میں واقع ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بھی گئی تھیں لیکن انھوں نے ان کا ٹیسٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *