حامد میر نے عمران خان کو طعنہ دے ڈالا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)حکومت کی اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اُن کے 16 ارکان نے پیسے لے کر خود کو بیچا، اگر انہیں وزیر اعظم پسند نہیں تو ساتھ نہ دیں، کوئی شخص اِنہیں دباؤ میں لا کر اپنی بات نہیں منواسکتا۔وزیراعظم کے

اس بیان پر معروف تجزیہ کار اور سینئر صحافی حامد میر بھی میدان میں آگئے ہیں اور اُنہوں نے ایسا سوال اٹھا دیا ہے کہ وزیراعظم اور اُن کی اتحادی جماعتیں بھی تلملا اٹھیں گی ۔تفصیلات کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صاحب خود کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ارکان اسمبلی نے ضمیر بیچا ،اُن کی تعداد بھی بتا رہے ہیں، کل کی تقریر میں پندرہ سولہ کی تعداد بتائی، اِنہیں نام بھی پتہ ہیں لیکن اِنہی ضمیر فروشوں سے ہمارے وزیراعظم کل اعتماد کا ووٹ بھی لیں گے ،تو اسے ہم کیا کہیں؟ دوغلا پن یا منافقت یا اصول پسندی؟۔اپنے ایک اور ٹویٹ میں حامد میر نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان پر کیچڑ اچھالنے کا الزام لگا کر چیف الیکشن کمشنر نے دراصل یہ کہا ہے کہ وزیراعظم کے ہاتھ کیچڑ سے لت پت ہیں، وزیراعظم کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنی ہو گی،وہ اعتماد کا ووٹ لینے نکلے ہیں، کم از کم اپنے ہاتھوں پر لگا کیچڑ تو صاف کر لیں پھر شوق سے اعتماد کا ووٹ بھی لے لیں۔حامد میر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ ایک ہی دن جہاں پر آپ جیت گئے وہاں کے نتائج قبول کر لئے گئے اور جہاں ہار گئے وہاں کے نتائج پر ناراضگی کا اظہار کر دیا ، کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کیا عزت رہ گئی؟۔ مت بھولیے کہ آج جس چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعظم پاکستان کے الزامات کا بھرپور جواب دیا ہے،اُن صاحب کو اِسی وزیراعظم نے خود اِس عہدے کے لئے نامزد کیا تھا ،اپنے ہی لگائے ہوئے الیکشن کمشنر پر الزامات لگا کر اور پھر اسکی طرف سے زناٹے دار جواب پا کر وزیراعظم نے اپنے آپ کو کمزور کیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.