حامد میر کا تہلکہ خیز سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب جبکہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بلاول اور مریم نواز کے درمیان کھڑے ہو کر اسمبلیوں سے استعفوں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے تو ڈائیلاگ کا مطلب

حکومت کو این آر او دینا ہوگا۔نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اڑھائی سال تک وزیراعظم عمران خان بار بار یہ اعلان کرتے رہے کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، وہ منہ پر ہاتھ پھیر پھیر کر اپوزیشن کو وارننگز دیتے رہے کہ میں تمہیں دیکھ لوں گا۔ کئی وفاقی وزراء یہ اعلانات کرتے رہے کہ بہت جلد مسلم لیگ (ن) میں سے مسلم لیگ (ش) نکل کر سامنے آئے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کبھی اسمبلیوں سے استعفے نہیں دے گی لیکن نہ تو ’ن‘ میں سے ’ش‘ نکلی، نہ پیپلز پارٹی نے مستعفی ہونے سے انکار کیا۔اڑھائی سال تک عمران خان نے اپوزیشن کو اپنی طاقت دکھائی۔ اب اپوزیشن نے عمران خان کو اپنی طاقت دکھانی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست نہیں ہو رہی۔ یہاں سیاست کے نام پر ایک دوسرے سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ عمران خان کا انتقام بھی اندھا ہے اور اپوزیشن کا انتقام بھی۔ جو سیاست عمران خان نے شروع کی ، اُسے مولانا فضل الرحمٰن انجام تک پہنچائیں گے۔اِس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ وہ سیاست میں اِس لئے آئیں کیونکہ وہ نواز شریف کی بیٹی ہیں لیکن عمران خان کے مخالفین میں اُن کی پذیرائی کی وجہ اُن کا بیانیہ ہے جسے محصور کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ جس کسی نے بھی شہباز شریف کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا وہ مریم نواز کا اصل محسن ہے۔ اُسی محسن کی مہربانی سے

شہباز شریف اور مریم نواز سے چچا بھتیجی نہیں بلکہ باپ بیٹی کی طرح متحد ہو چکے ہیں۔آپ مریم نواز سے لاکھ اختلاف کریں لیکن آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ خوف کے اُس محاصرے کو توڑ چکی ہیں جس کی نشاندہی بہت سال پہلے احمد فراز نے کی تھی۔یہ محاصرہ اُس وقت مکمل طور پر ختم ہو گا جب مریم نواز سمیت اپوزیشن کے دیگر رہنمائوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اِسی لئے مولانا فضل الرحمٰن قید خانے بھرو تحریک کی تجویز دے چکے ہیں۔ قید خانے بھرنے سے عمران خان کو فرق نہیں پڑے گا، قید خانے بھرنے سے خوف کا وہ محاصرہ پاش پاش ہو سکتا ہے جو آج کی اپوزیشن کا اصل ہدف ہے۔آپ اپوزیشن کی قیادت سے ڈائیلاگ کی بات کریں تو وہ تڑپ کر کہتے ہیں، بہت ہو گیا ڈائیلاگ، جائو اُن سے کہو ہمیں قید میں ڈال دیں، اب ہم کسی پر کوئی اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں۔ خود ہی سوچئے کہ محاصرے میں ڈائیلاگ کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک طرف اپوزیشن رہنمائوں پر مقدمات، میڈیا پر دبائو اور عدلیہ کی آزادی کے لئے خطرات ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم کہتا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک پیچھے کے غیرملکی ہاتھ ہے تو ڈائیلاگ کیسے ہوگا؟عمران خان میں ہمت ہے تو قوم کے ساتھ پورا سچ بولیں۔ اپوزیشن میں ہمت ہے تو قوم کے ساتھ پورا سچ بولے۔ جب سب کا اندر باہر واضح ہو جائے اور محاصرہ ٹوٹ جائے تو پھر ڈائیلاگ کا ماحول پیدا ہوگا اور یہ ڈائیلاگ کامیاب بھی ہوگا۔

Comments are closed.