حامد میر کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نواز شریف لندن میں خاموشی سے زندگی گزار رہے ہیں لیکن انکے سیاسی مخالفین اس خاموشی سے بھی خوفزدہ نظر آتے ہیں۔ انہیں نواز شریف کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ لگتی ہے لہٰذا وہ خاموش نواز شریف کیخلاف

طوفانی بیان بازی کے ذریعہ آنیوالے نامعلوم طوفانوں کا راستہ روکنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔شیخ صاحب نے یہ بیان داغ دیا کہ نواز شریف 1998ءکے ایٹمی کارنامے کے حامی نہیں تھے، ان تجربات کی حمایت اس وقت کی کابینہ میں سے راجہ ظفر الحق اور گوہر ایوب خان کر رہے تھے یا میں کر رہا تھا۔راجہ ظفر الحق نے شیخ رشید احمد کے اس دعوے کی فوری تردید کر دی ہے اور کہا ہے کہ 1998ءمیں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم تھے اور تجربات کا کریڈٹ اس وقت کے وزیراعظم کے سوا کسی اور کو نہیں مل سکتا۔ شیخ رشید احمد کے اس بیان کے بعد کئی لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھ چکے ہیں کہ نواز شریف 1998میں ایٹمی تجربات کے حامی تھے یا نہیں؟یہ سوال مجھے غیرضروری سا لگتا ہے کیونکہ جب پاکستان نے ایٹمی کارنامہ کیا تو وزیراعظم نواز شریف تھے اور تاریخ میں یہی لکھا جائیگا کہ پاکستان نواز شریف کے دور میں ایٹمی قوت بنا۔ کل مجھے پشاور سے ایک بزرگ اخبار فروش نے فون کیا اور کہا کہ آپ نے ایٹمی تجربات سے بہت دن پہلے لکھ دیا تھا کہ تجربات ضرور ہونگے اور 28مئی 1998کو بھی آپ نے یہ کالم لکھا کہ یہ کام کرنا ضروری ہے، جب بھارت نے تجربہ کیا تو وزیراعظم نواز شریف قازقستان کے شہر الماتے میں تھے۔ انہوں نے وہاں سے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو فون کیا اور کہا کہ آپ تیاری کریں۔ جنرل جہانگیر کرامت نے یس سر یا اوکے نہیں کہا بلکہ یہ گزارش کی کہ آپ واپس پاکستان آجائیں، کابینہ کی ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس بلائیں اور پھر کوئی فیصلہ کریں۔ اس وقت کے وزیر اطلاعات مشاہد حسین الماتے میں نواز شریف کیساتھ تھے۔ نواز شریف نے مشاہد حسین سے پوچھا کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے؟مشاہد حسین نے نواز شریف سے کہا کہ تاریخ نے آپ کو موقع دیدیا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنا دیں Now or Never(اب یا کبھی نہیں ) والی صورتحال ہے لہٰذا آپ بھارت کے کڑاکے نکال دیں کئی سفارتکاروں نے مجھے مل کر کہا کہ آپ ایٹمی تجربات کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کریں۔ ہمیں یہ بھی پتا چل گیا کہ وزیر خزانہ سرتاج عزیز سمیت کچھ وزراء اس کام کے حامی نہیں تو ہمارا لہجہ سخت ہوتا گیا۔18مئی 1998کو میرے کالم کا عنوان تھا ’’میں طوائف نہیں بنوں گی‘‘ اس کالم میں کہا گیا تھا کہ جو کہتے ہیں کہ ہم ایٹمی تجربات کے بجائے قرضے معاف کرا لیں یا مراعات حاصل کر لیں وہ ذرا سوچیں کہ پیسوں کیلئے تو طوائف بھی اپنا جسم بیچ دیتی ہے تو ہم ایک بین الاقوامی طوائف کیوں بن جائیں؟

Comments are closed.