حامد میر کے کالم میں انوکھے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔12 مارچ کو پاکستان کی سینیٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی کے بعد جب یہ اعلان کیا گیا کہ اکثریتی اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہو گئے

اور صادق سنجرانی چھ ووٹوں کی اکثریت سے جیت گئے تو میں سوچ رہا تھا کہ گیلانی صاحب کے اصل ووٹ تو 51تھے ان کے ووٹ 42 کیسے رہ گئے؟ ان کا بروٹس کون ہے؟چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ختم ہوا اور ڈپٹی چیئرمین کا الیکشن ہوا۔ اب کی دفعہ اکثریتی اتحاد کے امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری کے ووٹ 44 اور ان کے مدمقابل مرزا آفریدی کے ووٹ 54 نکلے۔ کوئی ووٹ مسترد نہیں ہوا جس کا مطلب تھا کہ اپوزیشن اتحاد کے سات سینیٹرز نے مولانا حیدری کے ساتھ بےوفائی کی۔ میں ایک دفعہ پھر سوچنے لگا کہ مولانا حیدری کے بروٹس کون کون ہیں لیکن افسوس کہ سیکرٹ بیلٹ کی وجہ سے کسی بروٹس کا سراغ لگانا ممکن نہیں تھا۔ 3 مارچ کو اسی سیکرٹ بیلٹ کے جادو سے یوسف رضا گیلانی جیت گئے تھے اور اکثریتی اتحاد کے امیدوار حفیظ شیخ ہار گئے تھے۔ 3 مارچ کو یوسف رضا گیلانی کی فتح کو حق اور سچ کی فتح قرار دیا گیا اور 12مارچ کو ان کی شکست دھاندلی کا نتیجہ قرار پائی۔ اپوزیشن نے گیلانی کے سات ووٹ مسترد کرنے کا معاملہ عدالت میں لے جانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان سات ووٹوں میں گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی تھی، خانے کے باہر مہر نہیں لگائی گئی تھی۔کچھ صاحبانِ علم و دانش کا یہ خیال ہے کہ 3مارچ کو گیلانی کو جتوا کر عمران خان کو جھٹکا دیا گیا اور 12مارچ کو گیلانی کو ہروا کر اپوزیشن کو جھٹکا دیا گیا۔ ہمارے صاحبانِ علم و دانش اب جھٹکا دینے والوں کا نام لینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے

کیونکہ ان کے خیال میں عوام بہت سمجھ دار ہیں، وہ سب جانتے ہیں کہ ایسے جھٹکے وہی دیتے ہیں جو سیاسی جماعتوں یا سیاستدانوں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ناچیز اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا۔ 3 مارچ کو سینیٹ کے الیکشن میں حکومت اور ریاست نے حفیظ شیخ کو جتوانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اس زور کو توڑنے کیلئے سابق صدر آصف علی زراری نے 28 فروری کی رات ایک ریاستی ادارے کے سربراہ کی خدمت میں بڑے عاجزانہ انداز میں یہ درخواست پیش کی کہ براہ کرم ہمارے ووٹ توڑنے کی کوشش نہ کی جائے۔ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن سے ایک رات قبل گیارہ مارچ کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے یہی بات انتہائی جارحانہ انداز میں ایک وڈیو بیان کے ذریعے کہہ دی جس نے حکومت سے زیادہ اپوزیشن کی صفوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ گیارہ مارچ کی رات ایک دوست نے آصف علی زرداری کو نواز شریف کا وڈیو بیان سنوایا تو زرداری صاحب بیان سن کر خاموش رہے۔ دوست نے پوچھا آپ کے پاس تو زیادہ ثبوت ہیں، آپ ایسا بیان کیوں جاری نہیں کرتے؟ زرداری صاحب نے جواب میں کہا کہ میرا ڈومیسائل سندھ کا ہے، میری کہی ہوئی چھوٹی سی بات کا ردِعمل بہت زیادہ ہوگا۔ اگلے دن 12مارچ کو گیلانی صاحب ہار گئے تو زرداری صاحب کو تھوڑی ہی دیر میں پتہ چل گیا کہ یہ جھٹکا اپنوں کی غلطی کا نتیجہ ہے۔ اپوزیشن کے سات سینیٹرز کو کچھ ضرورت سے زیادہ سمجھدار دوستوں نے گیلانی صاحب کے نام کے

اوپر مہر لگانے کا حکم دیا اور انہوں نے حکم کی تعمیل کی جسے پریذائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے اپنی مرضی کا رنگ دیا اور سات ووٹ مسترد کر دیے۔ اب معاملہ عدالت میں ہے۔ دعا کیجئے کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن سے ایک رات قبل پولنگ بوتھ کے اندر نصب ہونے والے خفیہ کیمروں کا معاملہ پارلیمینٹ کے اندر ہی حل ہو جائے۔ یہ معاملہ حل نہ ہوا تو بہت سے لوگوں پر بہت گند اچھلنے والا ہے۔ صادق سنجرانی کیلئے سینیٹ چلانا بہت مشکل ہوگا کیونکہ وہ اقلیت میں ہیں۔ نیب نے 13مارچ کو مریم نواز کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کر دی ہے اور کہا ہے کہ مریم نواز ریاست دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ایک ریاستی ادارے کی طرف سے ایک سیاست دان پر ریاست دشمنی کا الزام ریاست کی بڑھتی ہوئی کمزوریوں کا ثبوت ہے۔ پہلی دفعہ پنجاب کی سیاسی قیادت پر ریاستی ادارے ملک دشمنی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ ڈریے اس وقت سے جب مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند قیادت پاکستان میں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے والوں پر کشمیریوں سے غداری کا کھلم کھلا الزام لگائے گی۔ یہ تو بھارتی حکومت کی مہربانی ہے کہ حریت قیادت جیلوں میں بند ہے۔ یہ قیادت رہا ہو گئی تو ان میں سے کچھ بزرگوں کی طرف سے کم از کم کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہر یار آفریدی کو جواب ضرور دیا جائے گا جنہوں نے ایک حالیہ بیان میں صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا بھی دل دکھایا۔(ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *