حسن نثار نے اپنے کالم میں وارننگ جاری کردی

لاہور (ویب ڈیسک) تین باتیں: پہلی بات :سانحہ سیالکوٹ پر جو لکھنا چاہتا ہوں، لکھ نہیں سکتا۔دوسری بات :چودھری فواد کہتے ہیں ’’ہم نے ٹائمر والے ہتھیار لگا دیئے، انہیں ناکارہ نہ کیا تو وہ پھٹیں گے‘‘….. برادر محترم چودھری فواد !پھٹیں’’گے‘‘ نہیں، پھٹنا شروع ہو چکے ہیں ۔CHAIN REACTION کا انتظار فرمائیے ۔

تیسری بات 3:دسمبر 2021ء میرے کالم کے اختتامی جملے یہ تھے ۔نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔’’ہم ریلیکسڈ نہیں ٹینس ترین ہجوم ہیں جس میں سانپ سرسرا رہے ہیں۔ ہم نارمل نہیں ابنارمل معاشرہ ہیں جس کے مستقبل کے آگے سوالیہ نشان آبادی کی طرح بڑھتے جا رہے ہیں ‘‘یہ حقیقت ریکارڈ پر موجود ہے کہ گزشتہ 30سال سے میں مختلف طریقوں سے اسی شرمناک دردناک صورتحال کو لفظوں کے ذریعہ سکیچ کرتا رہا ہوں۔ اس ملک میں نظام کی آدم خوریت، جہالت اور کرپشن پر پے درپے جتنا اور جس جس طرح میں نے ماتم کیا، کسی اور نے نہیں ۔’’لکھا تھا دیوار چمن پہ ’’پھول نہ توڑو‘‘۔۔۔لیکن تیز ہوا اندھی تھی ‘‘۔۔۔اب یہ ہوا آندھی میں تبدیل ہو چکی ہے جبکہ میں نے تو یہاں تک بھی کہا اور لکھا تھا کہ ’’تیز ہوا میں توڑی یعنی بھوسے کی گٹھڑی کھل جائے تو کوئی افلاطون یا ٹارزن بھی اسے سمیٹ نہیں سکتا‘‘۔ یہ پنڈ کھل چکی یا یوں کہہ لیجئے کہ پنڈوراز بوکس کھل چکا ۔ جان برادر عطاالحق قاسمی نے لکھا ’’کمال اتاترک کو آواز نہ دیں !‘‘کوئی پریشان نہ ہو کیونکہ اتاترک صرف ترکوں میں پیدا ہوتے ہیں، ہم جیسوں میں ہرگز نہیں۔۔۔

Comments are closed.