حسن نثار نے بڑے کام کی بات کہہ دی

لاہور (ویب ڈیسک) اپنے مزاج کے بالکل برعکس آج کچھ مفت مشورے پیش کرنے کو جی چاہ رہا ہے۔ پہلا مشورہ پی ٹی آئی والوں کے لئے ہے کہ بھلے مانسو! زندگی میں ہر اعتراض، الزام، سوال، دشنام کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ میرے ایک انتہائی فیورٹ ’’جانور‘‘ کے بارے میں

نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک محاورہ ہے کہ وہ ’’بولتا‘‘ رہتا ہے لیکن قافلے چپ چاپ جواب دیئے بغیر گزر جاتے ہیں سو پی ٹی آئی والوں کو چاہئے کہ اپنے مشکل سفر، سفر کی سمت اور سپیڈ پر فوکس کریں۔ اپوزیشن پر کم سے کم وقت اور انرجی ضائع کریں اور انہیں سیاسی طور پر کمزور دیکھ کر طاقت کے ٹیکے لگانا بند کر دیں تو افاقہ ہو گا۔یہ سوچ کر کسی کارِ بد میں ملوث ہونا کہ دو چار بار کر کے چھوڑ دوں گا، انسانی زندگی کی مہلک ترین غلطیوں میں سے ایک ہے کیونکہ انسانی تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ’’چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘۔ جیسے لذیذ خوراکیں عموماً بدن خور اور صحت چور ہوتی ہیں، اسی طرح عیب بھی عادت بننے میں دیر نہیں لگاتا۔ اسے اپنانا بہت آسان لیکن اس سے جان چھڑانا مشکل ہی نہیں، تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔سب لوگوں کو خوش کرنے یا رکھنے کی کوشش کرنا عظیم ترین حماقتوں کی صف اول میں شامل ہے اس لئے دیانت داری اور غیر جانبداری سے جسے صحیح سمجھتے ہو اس پر قائم رہو چاہے اکیلے ہی کیوں نہ رہ جائو کیونکہ انسانوں کی بھاری اکثریت بہت ہی ہلکی ہوتی ہے۔’’تجربہ‘‘ حرف آخر نہیں، بہت بڑا سراب اور دھوکہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ زندگی میں ایسے تجربہ کاروں کی کوئی کمی نہیں جنہیں ’’تجربہ‘‘ تو صرف ایک سال کا ہوتا ہے جسے وہ 50سال تک دہراتے رہتے ہیں اور ’’50سالہ تجربہ کار‘‘ کہلاتے ہیں۔ہر دشمنی دوستی میں تبدیل ہو سکتی ہے لیکن ہمیشہ یاد رہے کہ جس دشمنی کی بنیاد میں حسد ہو وہ لحد کے بعد بھی قائم رہتی ہے۔پاک دامن بھی پلید کی چولی کے ساتھ باندھ دیا جائے تو پلید ہو جاتا ہے جیسے جانور چرانے والے گڈریوں سے بھی بھیڑوں کی بو آنے لگتی ہے۔تنہائی…..خدائی عکس ہے اور انعام بھی لیکن یہ ’’عام‘‘ کے بس کی بات نہیں کیونکہ مسلسل قربانی مانگتی ہے اور خنجر بھی اپنا، گردن بھی اپنی۔عالم بے عمل، موم بے عسل، سخی بے زر، شجر بے ثمر، کلام بے اثر، سوتے ہوئے سوار، جاہل پرہیز گار، اندھے کنویں، ابر بے باراں سے جتنا دور رہو، اتنا ہی بہتر ہو گا۔تقویٰ اور تکیہ تو یہ ہے کہ اس جانور کی سواری بھی حرام سمجھی جائے جس نے بغیر اجازت کسی اور کا چارہ کھا لیا ہو۔کسی دیوار کی منڈیر پر چلتا ہوا آدمی اگر اس خوف میں مبتلا ہو جائے کہ وہ گر جائے گا، تو یقین کر لیں کہ وہ ضرور گر جائے گا حالانکہ دیوار پر چلنے کی حالت میں بھی اس کے پیروں تلے اتنی ہی زمین تھی جتنی کہ زمین پر چلنے کی حالت یا صورت میں ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.