حسن نثار نے دلچسپ وجہ بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) مداری اور مجمع، تماشے اور تماش بین میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ تو اک ایسا دلچسپ اور زندہ دل معاشرہ ہے جہاں چنگ چی اور سائیکل کی ٹکر ہو جائے تو سو پچاس غیور باشعور اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ یہ تو پھر منجھے ہوئے مالدار سیاستدانوں کا شو تھا جس میں کیریکٹر

ایکٹر اور چاکلیٹ ہیرو سے لے کر ملکۂ جذبات تک سبھی بہترین پرفارمینس دے رہے تھے۔نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کس ایم این اے، ایم پی اے ٹائپ کی مجال تھی کہ تن من دھن سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرتا۔نہ میں عمران خان کے جھوٹے وعدوں کو جھٹلا سکتا ہوں نہ دو مین سٹریم سیاسی خاندانوں کی بھیانک چوری کو نظر انداز کر سکتا ہوں لیکن یہ تو بہرحال ماننا پڑے گا کہ ’’شو‘‘ اگر سپر ہٹ نہ تھا تو فلاپ بھی نہیں تھا۔ ماضی میں آج کی اپوزیشن کی بدترین کارکردگی اور موجودہ حکومت کے مسلسل کنفیوژن، مہنگائی اور دیگر عوامل کے بعد اگر ’’شو‘‘ اس سے بھی ذرا متاثر کن ہوتا تو مجھے حیرت نہ ہوتی لیکن چلو عزت رہ گئی۔ہر بندے کی اپنی اپنی پسند نا پسند اور ترجیحات ہوتی ہیں۔ مجھے جن چند باتوں نے انسپائر کیا، وہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ پہلی بات ’’شو‘‘ سے پہلے ایاز صادق کے گھر کھانا جس میں دیسی گھی میں تیار کی گئی دیسی مرغیاں مولانا کی فرمائش پر شامل کی گئیں۔ میں نے ٹی وی پر یہ خبر انتہائی دلچسپی سے سنی کہ کھانا ’’کھلنے‘‘ پر ن لیگیوں نے خوراک پر اس طرح یلغار کی کہ پیپلز پارٹی کے جیالے نہ صرف منہ دیکھتے رہ گئے بلکہ زیادہ تر بھوکے بھی رہ گئے تو میں دیر تک سوچتا رہا کہ یہی ’’کھانا‘‘ تو ن لیگ، پیپلز پارٹی کے درمیان اصل رولا اور مسئلہ ہے۔ لڑتے بھی ’’کھانے‘‘ پر ہیں اور ان کے درمیان صلح صفائی بھی ملکی وسائل ’’کھانے‘‘ پر ہی ہوتی ہے۔ دو سال پلس سے ملکی وسائل ان کی بے رحم دسترس سے دور ہیں جس کی نتیجہ میں ان کے درمیان دوریاں ختم اور نزدیکیاں شروع ہیں۔ ﷲ نہ کرے کل کلاں اگر پھر ان کو موقع مل گیا تو دنیا دیکھے گی کہ نیولے اور ناگن کی لڑائی پھر عروج پر ہو گی۔

Comments are closed.