حسن نثار نے پاکستانیوں کی آنکھیں کھول دیں

لاہور (ویب ڈیسک) خالد بن احمد حاکم بخارا نے حضرت امام بخاری سے کہا کہ میرے بیٹوں کو گھر آکر علومِ حدیث و تاریخ پڑھایا کیجئے ۔فرمایا ’’انہیں مدرسہ میں بھیج دیا کرو میں گھر پہ آکر پڑھانے سے علم کی تذلیل نہیں کر سکتا‘‘ حاکم نے کہا ’’ اچھا جس وقت میرے بچے پڑھنے آئیں کوئی اور

طالب علم وہاں موجود نہ ہو۔ میں عامیوں کے بچوں کے ساتھ اپنے بچے بٹھا کر ان کی تحقیر نہیں کر سکتا‘‘امام نے کہا ’’ علم اور خاص کر علم حدیث رسول اللہ ؐ کی میراث ہے اور میں اس میں کوئی تخصیص نہیں کر سکتا ‘‘۔نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔یہاں ہر ٹیچر ٹیوشنز پڑھا رہا ہے ۔ٹینی سن نے کہا تھا ’’ علم کا بوجھ تم پر جتنا بڑھتا جائے گا تم اتنا ہی ہلکا محسوس کرنے لگو گے‘‘حلقہ ٔ احباب میں جب کبھی ملکی مسائل پر گفتگو ہوتی ہے میں تکرار سے کہتا ہوں کہ یہاں جتنی آبادی اتنے ہی مسائل لیکن ’’حل‘‘ صرف دو کے درمیان ہے ۔پہلا ہے ورلڈ کلاس پرائمری ایجوکیشن، دوسری طرف ہے پاپولیشن مینجمنٹ، باقی سب رونا دھونا ان دو مسائل کے درمیان میں ہے اور بدقسمتی کی انتہا یہ کہ ان دونوں مسئلوں پر کوئی شخص گفتگو کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتا۔محدود آمدنی والوں کے بچے جن سکولوں میں جاتے ہیں ان کا معیار بہت ہی پست ہے تو سوچو کہ جو نسل اور فصل تیار ہو رہی ہے اس کی بھاری ترین اکثریت کیسی ہو گی ؟ کیونکہ جنہیں نسبتاً بہت بہتر تعلیم، ماحول میسر ہے ان کے پاس بیرون ملک سے لیکر ذاتی بزنس تک بہت سی آپشنز موجود ہیں تو اس مشکل ترین ملک کو چلائے گا کون ؟ معاشرہ میں طبقاتی فاصلے مزید ضربیں کھائیں گے تو کیا ہمارا اجتماعی چہرہ مزید مسخ نہیں ہوگاتو کیا ہوگا؟ سرکاری ٹائپ سکولوں کے اساتذہ سے لیکر نصاب اور ماحول

تک کی حالت قابل رحم ہونے سے بھی بدتر ہے ۔تربیت تو کسی نے خاک کرنی ہے تعلیم بھی بے تکی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پرائمری تک پہنچتے پہنچتے ’’بچہ‘‘ دراصل پایہ تکمیل تک پہنچ چکا ہوتا ہے ،اس کے بعد بنیادی طور پر ’’فنشنگ ٹچز‘‘ ہی رہ جاتے ہیں ۔پھر اک مخصوص مرحلہ پر پہنچ کر یہ فیصلہ کون کرتا ہے کہ کس بچے نے کس طرف جانا ہے ۔خالص سائنسی مضامین اور سوشل سائنسز کیلئے کن کو منتخب کرنا ہے اور کس قسم کی سکلز یعنی مہارتیں کس بچے کو سوٹ کریں گی وغیرہ وغیرہ ۔ سب کچھ اٹکل پچو، تیرتکے، اندھا دھند اور شارٹ ان دی ڈارک والا معاملہ ہے جس کے نتائج نوشتہ دیوار ہیں ۔موضوع میرا ہرگز نہیں لیکن دنیا میں طرح طرح کے ماڈلز موجود ہیں۔یورپ سے لیکر امریکہ اور جاپان سے لیکر شہد سے میٹھے چین تک کے ماڈلز سامنے رکھو اور کوئی ڈھنگ کا نصاب اور تعلیمی نظام وضع کر لو لیکن نہیں، یہ تیس مار خان مکھی پہ مکھی مارتے رہیں گے کہ نسل در نسل تربیت ہی ایسی ہے ۔دوسری طرف پاپولیشن کا پلیگ سنو بالنگ کی زد میں ہے ۔آبادی ٹوٹے ہوئے چھتر سے بھی کہیں زیادہ رفتار کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور برپشم قلندر کسی کو یہ بتانے کی توفیق نہیں کہ ہمارے دین کی بنیادی تعلیمات میں ایک شے ’’اعتدال اور میانہ روی ‘‘ بھی ہے، یہاں تک کہ عبادت کرنے سے لیکر کھانے تک پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے لیکن یہاں تو عجیب وحشت اور بے حسی کا عالم ہے کہ 24،25کروڑتو کسی سے بھی پالے سنبھالے نہیں جا رہے تو جب یہی24،25 کروڑ 40،45کروڑ تک پہنچ گئے تو یہاں منظر کیسا ہو گا؟معاشرہ تو پہلے ہی بزکشی کا میدان بنا ہوا ہے اوپر سے اگر مالتھس کی تھیوری آف پاپولیشن پر بھی توجہ نہ فرمائی ،بھوکے بیروزگاروں اور جہالت کے ثبوتوں کی تعداد دوگنی ،تین گنی ہو گئی تو کون سا قائد اعظم ثانی یا تبدیلی کا بانی اس صورتحال بلکہ بدصورت حال کو سنبھال سکے گا ؟بار بار مکرر در مکرر ارشاد ہے کہ ان دونوں موضوعات پر سوچو ورنہ جان لو کہ توڑی یعنی بھوسے کی پنڈ یعنی گھٹڑی کھلنے والی ہے اور اس کے کھلتے ہی جب لال آندھی نے آلیاتو کوئی باریک تنکوں کے اس بکھرے ہوئے ڈھیر کو سمیٹ نہیں سکے گا۔