حسن نثار کا افواج پاکستان کو شاندار خراج تحسین،

لاہور (ویب ڈیسک)نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے بارے میں کوئی ڈھنگ کی خبر سنے خاصی دیر ہو گئی۔ اقتصادی حوالوں سے لے کر انتظامی حوالوں تک، اخلاقی حوالوں سے لے کر سماجی حوالوں تک، خیر کی خبروں کا قحط ہے لیکن امیدوں، وعدوں، خوابوں، منصوبوں،

ارادوں، خواہشوں کی فراوانی ہے۔ایک سے بڑھ کر ایک بیزار کر دینے والی خبر آتی ہے اور ڈیپریشن میں اضافہ کرکے چلی جاتی ہے۔ ہے کوئی اور ایئر لائن جس کا جہاز جکڑ لیا گیا ہو؟ایسے حالات میں عالمی رینکنگ کے حوالہ سے پاکستان آرمی کی ترقی پر عوام کو مبارکباد دینا تو بنتا ہے۔افواجِ پاکستان نے اعلیٰ ترین کارکردگی کے حوالہ سے بہت سے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔پاکستان کا اِن نامساعد ترین حالات میں بھی دنیا کی دس (10) بڑی فوجی قوتوں میں شامل ہونا ہر پاکستانی کے لئے اعزاز اور فخر کی بات ہے اور میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ اگر اِس ملک کی نام نہاد ’’جمہوری قوتیں‘‘ پاکستان کو اقتصادی طور پر اِس بری طرح فریکچر نہ کرتیں، یہاں لوٹ مار کا موسمِ بہار مدتوں برقرار نہ رہتا، ملک اقتصادی طور پر مستحکم اور مضبوط ہوتا تو کوئی تصور کرے صورتحال کیسی ہوتی کہ مضبوط افواج اور مستحکم اقتصادیات میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔لرزاں و ترساں معیشت میں بھی اگر افواجِ پاکستان پرفارمینس کے حوالہ سے ٹاپ ٹین میں شامل ہیں تو مضبوط معیشت میں صورتحال کیسی ہوتی؟گھوسٹ سکول ڈھونڈنا ہوں تو فوج بجلی چور پکڑنا ہوں تو فوج زلزلہ آ جائے تو فوج سیلاب آ جائے تو فوج امن و امان ہاتھ سے نکلتا دیکھو تو فوج بدامنی کو لگام دینا ہو تو فوج سرحدوں کی حفاظت میں جان اور جہان سے گزرنا ہو تو فوج جمہوریت کے نام پر چند خاندانوں کی چور ترین آمریت قائم کرنا ہو تو کون؟ملک کو مقروض اور کنگال کرنا ہو تو کون؟

لفافہ جرنلزم سے لے کر قبضہ گروپوں تک کو ’’ایجاد‘‘ کرنا ہو تو کون؟غلط بخشی، اقربا پروری، میرٹ کی پامالی، خوشامد، چاپلوسی، حرام خوری، کام چوری، ڈسپلن کی بربادی، ووٹ بینک بنانے، قائم رکھنے اور بڑھانے کے لئے ہر قسم کے قواعد و ضوابط کو ری لیکس کرنا، روندنا ہو تو کون؟ناجائز قبضے کرنا ہوں تو کون؟اقامہ اقامہ کھیلنا ہو تو کون؟نام نہاد مقدس ایوانوں میں گٹے جوڑ کر جھوٹ بولنا ہو تو جنابِ سپیکر! کون؟پیدائش کے منتظر بچوں کے بیعانے بھی پکڑنے والے کون؟آمدنی سے زیادہ اثاثوں پر سوال پوچھا جائے تو آنکھیں نکالنے، دانت کچکچانے اور غرانے والے کون؟اداروں کو پامال کرنے والے کون؟سیاسی جماعتوں کو ذاتی جاگیروں کے طور پر چلانے اور اولادوں کو کارخانوں کی طرح وراثت میں دینے والے کون؟ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرنے والے کون؟قبروں میں قیام پذیر ہونے کے بعد بھی ریٹائر نہ ہونے والے کون؟روزانہ کی بنیادوں پر آئین کو کتکتاریاں نکالنے والے کون؟جمہور کو اناج، انصاف اور علاج جیسے بنیادی حقوق بھی نہ دے سکنے والے کون؟ وغیرہ وغیرہ 1000000xیہ جعلی جمہوریے سچ مچ مخلص، عوام دوست اور کسی جوگے ہوتے تو کبھی کسی ’’مداخلت‘‘ کی نوبت نہ آتی۔یہ باتیں تو بہت بناتے ہیں، یہ کبھی نہیں بتاتے کہ پاکستان میں ایسا دوسرا ادارہ کون سا ہے جو عالمی رینکنگ میں 50ویں کیا، 100ویں نمبر پر بھی آ سکتا ہو؟ ایک سے بڑھ کر ایک گلا سڑا بدبو دار اور آدم خور سسٹم جسے انہوں نے جان بوجھ کر منصوبہ بندی کے ساتھ برباد کیا ہے۔کان پک گئے تھانہ کلچر کی تبدیلی کا بےسرا راگ سنتے سنتے۔نسلیں مر گئیں انتظار کرتے کرتے کہ مظلوم کو اس ’’اسلامی‘‘ اور ’’جمہوریہ‘‘ میں فوری انصاف اس کے گھر کی دہلیز پر ملے گا؟ تیسری نسل آج بھی انصاف کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہے۔شرح خواندگی شرمناک اور وہ بھی ان میں جن کے لئے علم کو ان کی کھوئی ہوئی میراث قرار دیا تھا۔ یہ تو 73سال بعد جمہور کو ان کی گمشدہ میراث واپس نہ دلا سکے۔نہ روزگار نہ لا اینڈ آرڈر، ریلوے ٹریکس پر مارکیٹس بن گئیں۔ ایک یونیورسٹی بھی 100ٹاپ یونیورسٹیز میں شامل نہیں تم ہو کون؟ تم نے دیا کیا؟لاپتہ افراد کے ٹھیکے دار تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہاں تو پوری کی پوری آبادی ’’لاپتہ‘‘ ہے جسے تم نے شناختی کارڈ نمبرز کے علاوہ دیا ہی کچھ نہیں اور وہ بھی صرف اس لئے کہ تمہیں ان کے گونگے، بہرے، معذور ووٹوں کی ضرورت ہے۔اس پر بھی مفرور باہر بیٹھ کر اس اکلوتے ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو دنیا کی دس بڑی قوتوں میں شامل ہے۔

Comments are closed.