حسن نثار کا حکمرانوں اور عوام کو دنگ کر ڈالنے والا مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ دیکھو بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا ہوا چودھویں کا چاند کتنا خوبصورت ہے ‘‘’’ہاں….بالکل چپڑی ہوئی روٹی کی طرح چمک رہا ہے ‘‘جب سے ہوش سنبھالا یا گنوایا، میں نے ہم وطنوں کو آٹا، آٹا، روٹی، روٹی کرتے ہی دیکھا ہے ۔

مہنگائی کا ماتم تب بھی ہوتا تھا جب ڈھابوں پر ’’آنے کی روٹی اور دال مفت‘‘ ہوتی تھی ۔ خدا جانے کون کم بخت اس بددعائے ہوئے خطہ کو’’سونے کی چڑیا‘‘ کہتا تھا جس کی بیشتر نسلیں روٹی کے طواف میں ہی ضائع ہو گئیں۔کبھی ان صدیوں پرانے محاوروں پر ہی غور کرلیں۔جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے۔۔کوٹھی اناج کوتوالی راج۔۔روکھی سوکھی کھا اور ٹھنڈا پانی پی۔۔چپڑی ہوئی اور دو دو۔۔کھانے کے گال، نہانے کے بال نہیں چھپتے۔۔۔اناج کال نہیں، راج کال ہے۔۔پیٹ ناں پیاں روٹیاں تے ساریاں گلاں کھوٹیاں۔۔ان اور رن کا کیا نام رکھنا۔۔سستا گیہوں گھر گھر پوجا۔۔پیٹ میں پڑا چارہ کودنے لگا بیچارہ۔۔جب تک روٹی بھات، تیرا میرا ساتھ۔۔ہوئی فجر چولہے پر نظر۔۔مل گئی روزی نہ ملی تو روزہ۔۔بہرا بھی روٹی کی پٹ پٹ سن لیتا ہے۔۔جس کے ہاتھ ڈوئی اس کا ہے ہر کوئی۔۔جس کی تیغ اس کی دیگ(ملک اس کا جس کا اس کے وسائل پر قبضہ کہ یہی یہاں کی اصل ’’اکانومی‘‘ ہے)۔۔آیا تو نوش نہیں تو فراموش۔۔زردار کا سودا ہے بے زر کا خدا حافظ۔پردار تو اُڑتے ہیں بے پرکا خدا حافظ۔۔بھوک میں تو بھجن بھی نہ ہو۔۔۔نہ دیکھ پرائی چوپڑی نہ للچائے جی۔۔ہاتھ میں لانا پات میں کھانا۔۔باسی قورمہ تازہ دال سے اچھا۔۔قارئین !۔۔پیٹ بھر گیا کہ مزید محاورے پیش کروں جو صدیوں پر محیط ہیں جن پر غور کریں تو بہ آسانی یہ بات سمجھ جائیں گے کہ بھوک، ننگ، مہنگائی، فاقہ ہمارا ’’کلچر‘‘ ہے ، ہماری روایت ہے کہ مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے ’’وقائع بابر‘‘ میں جہاں برصغیر کی دولت کا ذکر کیا وہاں عوام کی بھوک غربت پر بھی خوب روشنی ڈالی ہے ۔ یہ خطہ ’’سونے کی چڑیا‘‘

صرف اقلیت کیلئے رہا، باقی عوام شوام، ووٹر تو مندرجہ بالا محاوروں سے ہی پیٹ پوجا کرتے رہے۔جو آج مہنگائی کے خلاف مورچہ ’’زن‘‘ ہے، ان کے ابا کی وزارت عظمیٰ میں یہ ہیڈلائن میں نے نہیں لکھی تھی۔’’شیر آٹا کھا گیا‘‘آٹا، آٹا کر دی نیں میں آپے آٹا ہوئی۔۔کبھی ’’شیر‘‘ کھا گیا کہ بیچارہ ’’اردو میڈیم‘‘ تھا، اب اگر ’’ٹائیگر‘‘ کھا گیا تو وہ انگلش میڈیم کاہے یعنی فرق صرف میڈیم کا ہے ورنہ جہاں ملکی وسائل پر چند لوگوں کی مکمل اجارہ داری ہو گی وہاں باقی سب ’’سائل‘‘ ہی ہوں گے۔ہماری تو تاریخ ہی لوٹ سے شروع ہو کر سقوط ڈھاکہ پر ختم ہو جاتی ہے کیونکہ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اور اسی لئے کنویں سے بالٹیاں بھر بھر پانی نکالتے ہیں، کتا کوئی نہیں نکالتا۔’’کتے تیھتیں اُتے‘‘صدیوں پہلےمیں سکول میں تھا جب ’’روٹی‘‘ نام کی ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا ہیرو پنجابی فلموں کا دلیپ کمار اکمل نامی ایک اداکار تھا۔فلم کے اس تھیم سونگ نے دھوم مچا دی تھی۔’’روٹی دا سوال اے جواب جے دا روٹی اے۔۔وڈے وڈے لوکاں لئی ایہہ گل بڑی چھوٹی اے‘‘واہ کیا زندہ قوم ہے کہ ایوب خان سے لیکر عمران خان تک، فیلڈ مارشل سے لیکر کپتان تک نان،نان، روٹی، روٹی کھیل رہی ہے حالانکہ علامہ اقبال صاحب کا خیال تھا کہ یہ ستاروں پر کمندیں ڈالیں گے اور ان سے’’دنیا کی امامت‘‘ کا کام لیا جائے گا لیکن ان کی یہ بات بہرحال درست نکلی کہ ’’ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات‘‘ سچ پوچھیں تو اس میں بھی ایک زبردست قسم کا جھول ہے کیونکہ ’’بندہ مزدور‘‘ کو تو دفع کریں ….یہاں تو لوئر مڈل اور اپر مڈل کلاس کی ماتمی موسیقی بھی عروج پر ہے ۔قارئین !اگر برا نہ منائیں تو جان کی امان پائے بغیر فرمانِ فاقہ جاری کرتے ہوئے عرض کروں کہ ’’مہنگائی ماں جائی ‘‘ پر ماتم کرنے کی بجائے اسے سیلی بریٹ کریں، اس پر جشن منائیں کہ بھوک ، غربت، فاقہ ہماری ثقافت، ہماری مقامی تاریخ اور تہذیب ہے ورنہ کسی اور زبان میں روٹی کے اتنے رشتے دار محاورے نکال کر دکھائیں۔

Comments are closed.