حسن نثار کا مسلسل نظر انداز کیے جانے والے جاوید ہاشمی کو زبردست مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) کھانے‘‘ اور جیالوں کے بھوکا رہ جانے، مولانا کا دیسی مرغیوں سے ’’اظہار یک جہتی‘‘ کے علاوہ مجھے بلاول اس وقت بہت اچھا لگا جب اس نے جلسۂ عام میں جہانگیر بدر مرحوم و مغفور کو یاد کرتے ہوئے اس کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ جہانگیر بدر مرحوم کے

بچے بالخصوص علی بدر مجھے بہت ہی عزیز ہے کہ کئی اعتبار سے باپ کا رپلیکا ہے۔نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سامنے بیٹھا ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے جے بی سے باتیں کر رہا ہوں۔ چند ہفتے پہلے علی بدر مجھے میری اور اپنے پاپا کی تقریباً 45,40سال پرانی تصویر فریم میں جکڑ کے دے گیا جب دونوں آتش جوان تھے۔ اب ایسے سر پھرے سرفروش با وفا سیاست میں ڈھونڈے نہیں ملتے۔اس ’’شو‘‘ کی تیسری ہائی لائٹ کا تعلق بھی یونیورسٹی کے زمانے سے تھا۔ میرا اشارہ ’’باغی‘‘ اور ’’اک بہادر آدمی جاوید ہاشمی کی بے بسی کی طرف ہے۔ گوجرانوالہ کے جلسہ سے لے کر مینار پاکستان تک جاوید ہاشمی کو مسلسل نظر انداز کئے جانے پر اس سفاک سیاست سے نفرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔چڑھتے سورج کی پجاری دنیایہ ہماری نہ تمہاری دنیا’’شیر‘‘ بوڑھا اور بیمار ہو گیا لیکن لیڈر شپ تو ماشاء ﷲ جوان اور صحت مند ہے جو اپنے اتنے سینئر شخص کو زبانی کلامی پروٹوکول بھی نہ دے سکی تو میں اپنے بچپن کے دوست سابق صدر سٹوڈنٹس یونین پنجاب یونیورسٹی حفیظ خان سے درخواست کروں گا کہ اپنے سابق سیکرٹری جنرل کو سمجھائیں کہ عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں اور جو اپنی عزت نہ کرے، کوئی اس کی عزت نہیں کرتا کہ’’جہاں پگڑی اچھلتی ہے اسے میخانہ کہتے ہیں‘‘عزت سادات جتنی بچ رہی ہے، اسے ہی بچا لو تو بڑی بات ہے۔ میں نے شروع میں عرض کر دیا تھا کہ پی ڈی ایم کا یہ شو نہ سپر ہٹ تھا نہ بالکل فلاپ۔ رہ گیا ’’سردی سکول آف تھاٹ‘‘ تو بھائی! اگر ورکر سچ مچ موبلائز، موٹی ویٹ ہو تو سردی کیا ژالہ باری بھی اس کا رستہ نہیں روک سکتی لیکن شاید عمومی شعور کا گراف واقعی بلند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عوام ان کے اقتدار کی مشین کا پٹرول بننے کو اس طرح ہرگز تیار نہیں جس طرح ماضی میں ہوتے تھے۔ گھٹیا ترین آئی کیو کو بھی یہ بات تو سمجھ آ ہی جانی چاہئے کہ یہ کیسے ’’نظریاتی اور انقلابی‘‘ ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے، بھائی، کزن اور دیگر تو انگلینڈ میں محفوظ و مفرور کر رکھے ہیں اور لوگوں کی اولادوں کو اقتدار کی فرنس میں جھونکنا چاہتے ہیں۔آخر پہ محمود اچکزئی کا انگریزوں کو سپورٹ کرنے پر لاہوریوں سے گلہ شکوہ تو صاحب! یہ سکھ راج کا ری ایکشن تھا اور یہ بھی بتائیں کہ بلوچستان میں گورے صاحب کی بگھی میں کون کون سے سردار گھوڑوں کی جگہ جتے تھے؟

Comments are closed.