حسن نثار کا موجودہ ملکی حالات پر اہم تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ کالم تخت، تختہ، تختۂ دار ’’اے پی سی‘‘ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے اخبار کے آفس بھیجا جا چکا تھا۔ اس کے چند جملے صرف یاد دہانی کے لئے۔’’نواز شریف سینئر ترین سٹیک ہولڈر ہے جس کی کیفیت قابل فہم ہے۔ اندھے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ عمران خان تیزی سے

ڈلیور کرنے کی پوزیشن میں آتا جا رہا ہے سو ان کی فرسٹریشن اور ڈیسپریشن انتہائوں کو چھو رہی ہے۔ ڈیسپریشن میں آدمی کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔خصوصاً نواز شریف کی حالت NOW OR NEVERجیسی ہے‘‘’’تخت، تختہ یا تختۂ دار کا کھیل تقریباً آخری مراحل میں داخل ہونے والا ہےجس کا اگلا مرحلہ بھی دور نہیں‘‘قارئین!میری توقع بلکہ خدشات کے عین مطابق وہی کچھ سامنے آ چکا ہے۔ تقریر تضادات کا شہکار اور پے در پے جھوٹ کا پلندہ تھی جس میں سرفہرست ’’بیمار‘‘ نواز شریف کی قابل رشک صحت خصوصاً قابل ذکر ہے، جس میں وہ مریض نہیں، ’’گلیڈی ایٹر‘‘ دکھائی دے رہے تھے۔گزشتہ کالم کا یہ جملہ بھی تھوڑا غور طلب ہے۔’’اور یہ بھی یاد رہے کہ موجودہ میچ سیاسی جماعتوں کے لئے نہیں، پاکستان کے لئے فیصلہ کن ہو گا‘‘اس کی تصدیق بھی نواز شریف نے خود ہی یہ کہتے ہوئے کر دی ہے کہ ان کا مقابلہ عمران خان سے نہیں، ان قوتوں یعنی اسٹیبلشمنٹ سے ہے جو اسی طرح ہی کرتی ہے.اس طرح کے کاموں میں۔یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کی روشنی میں مَیں نے یہ عرض کیا تھا کہ ’’موجودہ میچ سیاسی جماعتوں کے لئے نہیں، پاکستان کے لئے فیصلہ کن ہو گا‘‘۔ بہرحال اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا کہ اس حد تک جانے کا مشورہ دینے والے نواز شریف کے دوست تھے، دشمن تھے یا دوست نما دشمن لیکن زہریلا تیر بہرحال کمان سے نکل چکا اور ایسی کوئی ٹیکنالوجی میرے علم میں نہیں جو ایسے بے ہدف تیروں کو واپس لا سکے۔ ایک بات طے کہ موجودہ ملکی حالات میں ایسا لیتھل مشورہ دینے والے پاکستان کے دوست ہرگز نہیں تھے۔بات ’’پاکستان ڈیموکریٹک الائنس‘‘ کے نام پر نئے اتحاد سے ’’چارٹر آف پاکستان‘‘ کے لئے کمیٹی تک جا پہنچی ہے۔ اکتوبر میں ملک گیر جلسے، دسمبر میں مظاہرے ہوں گے اور جنوری میں فیصلہ کن لانگ مارچ یعنی وہی پرانی رسم کہ ’’ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘‘ جس پر جون ایلیا یاد آتا ہے جس نے کہا تھاکون اس گھر کی دیکھ بھال کرےروز اک چیز ٹوٹ جاتی ہےلیکن خیر ہے، ’’گھر‘‘ سلامت رہے چیزوں کا کیا ہے۔ آتی جاتی، بنتی بگڑتی اور ٹوٹتی جڑتی رہتی ہیں لیکن میں مسلسل یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ سب وہ لوگ ہیں جن کی تقریروں، باتوں، منشوروں، ایجنڈوں، اتحادوں، تحریکوں، لانگ مارچوں میں تو ’’پاکستان‘‘ اور جمہوریت‘‘ بہت زیادہ پائی جاتی ہے لیکن ان کی کارکردگی، کرتوت اور بے کراں بدعنوانی میں پاکستان اور جمہوریت کا نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.