حسن نثار کی ایک خوبصورت تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کون نہیں جانتا کہ الرحمٰن (بے پایاں رحم کرنے والا) الرحیم(بڑا ہی رحم کرنے والا) الملک(جو تمام کائناتوں کا واحد مالک ہے) القدوس (غلطیوں اور عیوب سے پاک اور نقائص سے مبرا) السلام (امن و سلامتی کا سرچشمہ)

المومن(آفات و عذاب سے امن و امان میں رکھنے والا) العزیز (بڑے اقتدار والا) الجبار (زبردست غلبہ رکھنے والا) الخالق (وجود بخشنے، پیدا کرنے والا)، الباری (ہر شے کو عدم سے وجود میں لانے والا)، الغفار (بڑا درگزر کرنے والا )، الوہاب (بے غرض بخشش اور سخاوت کرنے والا)، الرزاق (حاجت روا)، العلیم (ہر بات،چیز کا علم رکھنے والا)، الباسط (وسعت دینے والا)، الرافع(جو بلندیاں عطا کرتا ہے)، السمیع (بندوں کی سننے والا )، الغفور (بڑابخشش کرنے والا)، الحفیظ (سب کا محافظ، حفاظت کرنے والا)، المجید (بڑی بزرگی والا)، القوی (بڑی طاقت و قوت والا)، ﷲ رب العزت کے مبارک ناموں میں سے کچھ ہیں لیکن ذرا حال ملاحظہ فرمائیں کہ لاعلمی، بے خبری کے کوہ ہمالیہ پر براجمان اسلامی معاشرہ میں چلن کیا ہے؟ﷲ معاف فرمائے عبدالرحمٰن کو رحمٰن، عبدالرحیم کو رحیم، عبدالقدوس کو قدوس، عبدالعزیز کو عزیز، عبدالجبار کو جبار، عبدالخالق کو خالق، عبدالغفار کو غفار، عبدالرزاق کو رزاق، عبدالرافع کو رافع، عبدالقوی کو قوی کہہ کر پکارا جاتا ہے جبکہ عبدﷲ کو پورا نام لے کر بلاتے ہیں کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ جسے پکارا جا رہا ہے وہ ﷲ کا عبد ہے، نعوذ باللہ، ﷲ نہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ DEFINE تو کریں کہ کس حد تک کتنی عربی پڑھانی ہے کہ ادب آداب تو سیکھ جائیں، باقی یہ زبان پڑھنا پڑھانا کم ہی لوگوں کے بس کی بات ہوگی۔پوری زندگی میں صرف ایک شخص دیکھا جو اپنا ادھورا نام لئے جانے پر سرزنش کرتا اور لوگوں کو سمجھاتا کہ وہ بے خبری میں بے ادبی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور یہ صاحب تھے مولانا عبدالستار نیازی مرحوم و مغفور جو ستار نیازی کہنے پر ڈانٹ دیتے اور سمجھاتے کہ میں ’’ستار‘‘ نہیں، اس کا عبد یعنی بندہ ہوں۔آج کی اس ساری ایکسر سائز کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اگر یہ کالم پڑھ کر چند ہزار لوگ بھی نام لینے میں احتیاط کرنے لگیں تو سمجھوں گا معمول کی جھک نہیں کی جو شاید میرے رب کو بھی پسند آئے۔سوچو سمجھو تو کوئی بات کرو۔۔نام لینے میں احتیاط کرو۔۔عربی زبان سیکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔

Comments are closed.