حسن نثار کی چند تازہ ترین سیاسی پیشگوئیاں

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حسن نثار اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اصولاً تو آج بھی ’’ناغہ‘‘ ہی بنتا تھا لیکن ’’اے پی سی‘‘ نے چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔ ان لوگوں نے اس ملک کو تقریباً مسلسل اقتدار کے باوجود قرضوں اور کسمپرسی کے علاوہ اور دیا ہی کیا ہے لیکن ڈھٹائی کی

بہرحال داد بنتی ہے کہ سرے محل اور ایون فیلڈ کچی آبادیوں سے خطاب فرمائیں گے۔بدہضمی بھوک سے مخاطب ہوگی، عرش نشین فرش نشینوں کی محرومیوں سے بات کریں گے۔ سچ کہا کہ نواز شریف کی آواز کو روک سکتے ہو تو روک لو کہ جو صحت مند نواز شریف کو نہ روک سکے وہ اس کی آواز کو کیسے روک سکیں گے؟ تماشا دلچسپ ہوگا کہ سانپ کے منہ میں چھپکلی کا سا سماں ہے۔ بڑھک تو مار چکے اب دیکھنا ہے کہ بولتے ہیں یا اچانک محاورے والی بولتی بند ہو جاتی ہے کہ دونوں کاموں کیلئے دبائو عروج پر ہوگا اور یہ فیصلہ، فیصلہ کن ہوگا کہ چھپکلی اُگلی جائے یا نگلی جائے۔ یہ آل پارٹیز کانفرنس نہیں بلکہ آل پارٹنرز کانفرنس ہے۔’’پارٹنرز اِن کرائم‘‘ ہیں جو مدتوں سے مال مسروقہ ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ کی روشنی میں تقسیم کرتے ہیں۔ کبھی ایک دوسرے کی انتڑیاں نکالنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کرتے ہیں، کبھی گہری پیاس اور پانی کی طرح گلے ملتے ہیں۔ یہ سیاسی پارٹیاں نہیں، جتھے اور گینگز ہیں جو جن عوام سے پیار کا اظہار کرتے ہیں، انہی کو مار دیتے ہیں اور عوام کی ذہنی حالت کا اندازہ لگانے کیلئے صرف یہی ایک جملہ بہت کافی ہے کہ ’’کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں‘‘۔نواز شریف سینئر ترین ’’سٹیک ہولڈر‘‘ ہے جس کی کیفیت قابلِ فہم ہے۔ اندھے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ عمران خان تیزی سے ’’ڈلیور‘‘ کرنے کی پوزیشن میں آتا جا رہا ہے سو ان کی فرسٹریشن اور ڈیسپریشن انتہائوں کو چھو رہی ہے۔ ڈیسپریشن میں آدمی

کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔خصوصاً نواز شریف کی حالت NOW OR NEVER جیسی اور کشتیاں جلا دینے والے طارق بن ذیاد جیسی ہے لیکن مسئلہ یہ کہ آپ طارق بن ذیاد نہیں نواز بن شریف ہیں جس نے ہمیشہ ایک آدھ کشتی نکرے لگائی ہوتی ہے۔ ساتھی جائیں بھاڑ میں خود سرور پیلس جدہ میں بیٹھ کر سرور لیں گے جب تک موسم سازگار نہیں ہو جاتا لیکن اس بار مقابل ایک منتخب ہے جو ’’ڈلیور‘‘ کرنے میں کامیاب ہو گیا تو ان مجرموں ملزموں کا بنے گا کیا؟ یہی خوف انہیں جینے نہیں دے رہا۔جو وزیراعظم اپنی اور صدر کی مراعات کم کرنے کا بل لانے کی منظوری دیدے وہ بہت ’’خطرناک‘‘ ثابت ہو سکتا ہے سو سردھڑ کی بازی لگانا تو بنتا ہے، اسی لئے عرض کیا کہ تماشا بہت دلچسپ ہوگا۔تخت، تختہ یا تختہ دار کا کھیل تقریباً آخری مراحل میں داخل ہونے والا ہے جس کا اگلا مرحلہ بھی دور نہیں جو دلیری سے زیادہ دانش مندی کا متقاضی ہوگا مثلاً مجھے تو نواز شریف کی تقریر پر کارروائی بھی بےتکی محسوس ہو رہی ہے۔سراج الحق، حق کا ساتھ دیں نہ دیں کہ ان کی اپنی دنیا ہے لیکن یہ کہتے ہوئے باطل کا ساتھ دینے سے انکاری ہیں کہ ’’اے پی سی کا ایجنڈا کچھ لوگوں کے ذاتی مفادات کے گرد گھوم رہا ہے۔ ملک کی تباہی کے ذمہ داروں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے‘‘۔یاد رہے جن مونہوں کو مسلسل اقتدار کا خون لگ چکا ہو، اقتدار سے مستقل محرومی ان کیلئے تختہ دار سے کم نہیں ہوتی اور یہ بھی یاد رہے کہ موجودہ میچ سیاسی جماعتوں کیلئے نہیں پاکستان کیلئے فیصلہ کن ہوگا۔کیوں ڈبوتے جا رہے ہو کشتیوں پہ کشتیاں۔دور ہے ساحل تو پھر ساحل بدل کر دیکھ لو۔۔۔

Sharing is caring!

Comments are closed.