حسن نثار کے ایسے دلائل کہ آپ بھی انکی تائید کریں گے

لاہور (ویب ڈیسک) یہ کھیل ہی گندا اور اس کے کھلاڑی گندے ترین ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ کہانی لمبی نہیں چلے گی اور مستقبل میں انسان سیاست اور سیاستدان سے نجات حاصل کر لے گا۔ ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو کی ریکارڈنگ منظر عام پر آگئی ہے۔ ’’سپر پاور‘‘ کا صدر، نام نہاد جمہوریت کا

نامور کالم نگار حسن نثار اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سمبل جارجیا سٹیٹ میں اپنے حریف جوبائیڈن کی فتح کو ہار میں بدلنے کے لئے ریاست کے سیکرٹری پر دبائو ڈالتا رہا اور اس کارِ خیر کیلئے ’’منانے‘‘ کی کوشش کرتا رہا۔ یہ ہے اصل حقیقت جمہوریت کی روشن ترین علامت کی جو غلاظت کا بدترین نمونہ ہے۔اگر دماغ میں خلل نہ ہو اور دوسروں کے اگلے ہوئے فکری نوالے چبانے کی عادت نہ ہو تو دین کامل کی اس ہدایت سے سرمو انحراف کی جرأت ہی ممکن نہیں کہ ۔۔۔ ’’جو شخص خود کو کسی منصب کیلئے پیش کرے، وہ اس منصب کیلئے بدترین آدمی ہے‘‘۔ یہ حکمت کی انتہا ہے جس پر غور کریں تو چودہ نہیں چودہ ہزار طبق روشن ہو جاتے ہیں۔ہمارے ہاں کچ پکے نیم خواندہ لوگ سوچے سمجھے بغیر سیاستدانوں کو مظلوم قرار دیتے وقت نجانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ سیاست دنیا کا وہ واحد پیشہ ہے جو سرتاپا، سو کا سو فیصد عام آدمی کی رائے کا محتاج ہے کہ یہی رائے یعنی ووٹ اس کا اکلوتا ’’کلیم ٹو گلوری‘‘ ہوتا ہے ورنہ دنیا کے ہر باقی پیشے میں سرخروئی، کامیابی، بلندی کیلئے کسی کی رائے یعنی ووٹ وغیرہ کی پرکاہ جتنی بھی اہمیت نہیں۔ کیا کوئی ہوش مند آدمی تصور بھی کر سکتا ہے کہ کسی للو پنجو، گامے ماجھے کو ووٹوں کی اکثریت کی بنیاد پر ملک کا عظیم سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، جرنیل، جج، مفکر، بیورو کریٹ، مصور، موسیقار، شاعر، ادیب یا کچھ اور ڈیکلیئر کر دیا جائے؟ ووٹ کی بنیاد پر تو کوئی باورچی یا ڈرائیور بھی ’’منتخب ‘‘ نہیں ہو سکتا تو کسی بھی ملک معاشرہ

کی لگامیں کسی ایسے بازی گر کو کیسے سونپی جا سکتی ہیں جس کے پلے ووٹوں کے علاوہ اور کوئی شے ہی موجود نہ ہو۔ہاں البتہ جمہور اور جمہوریت جینوئن اور سچ مچ ایک نمبر ہو تو اس کے حق میں بھی مناسب دلیلیں دی جا سکتی ہیں لیکن میرا اصل موضوع تھوڑا مختلف ہے اور وہ یہ کہ سیاستدان کو ’’مغلطات ‘‘ صرف اس لئے پڑتی ہے کہ اس کا تو وجود ہی ووٹ کا محتاج اور مرہون منت ہوتا ہے اس لئے اس پر عوام کے کلیم یا کلیمز کی نوعیت ہی سو فیصد مختلف ہوتی ہے۔انجینئر اگر اچھا پرفارم نہیں کر رہا تو بھائی! وہ میرا آپ کا ووٹ لے کر تو نہیں آیا کہ ہم اس کا گریبان پکڑ سکیں۔ اسی طرح اگر کوئی بیورو کریٹ حرام کھا رہا ہے تو وہ سول سروس کا امتحان پاس کر کے آیا ہے اس لئے اس کی حرام خوری عوام کا کنسرن تو ہے یا ہونا چاہئے لیکن یہی حرام جب کوئی سیاستدان کھاتا ہے تو اس کی نوعیت مکمل طور پر بدل جاتی ہے۔ ممکن ہے یہ باریک سا فرق کچھ موٹے دماغوں میں فٹ نہ بیٹھے اور وہ یہ شوشا چھوڑیں کہ ایک بار ووٹر کو لیٹ ڈائون کرنے والے سیاستدان کو اگلے الیکشن میں ووٹ نہ دے کر اسے سزا دی جا سکتی ہے تو یہ بوگس بات ہے جس کا ہمارے ہاں کے زمینی حقائق سے دور پار کا تعلق بھی نہیں۔ہماری یہ جمہور دشمن جمہوریت ہے کیا؟ دولت کے ذریعہ طاقت اور طاقت کے ذریعہ مزید دولت جس کا معمولی سا حصہ خرچ کر کے مفاد پرستوں اور بینی فشریز کے جتھے جنم دیئے جا سکتے ہیں۔ کھیل اس سے ذرا سا بھی مختلف ہوتا تو کیا نواز شریف جیسا اک اوسط درجہ کا آدمی تین بار وزیراعظم ہو سکتا تھا؟ جس کے سپورٹرز بھی یہ کہتے ہیں کہ میاں صاحب کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں۔ یہ ہے معاشرہ کا اصل حال اور زوال جس کا کمال یہ ہے کہ آج بھی ان کو کھلا چھوڑ دو، یہ چوتھی، پانچویں بلکہ چھٹی بار بھی وزیر اعظم ’’منتخب‘‘ ہو جائیں گے کیونکہ ایسی جعلی جمہوریت میں اوپر نیچے بار بار اقتدار کے بعد ملک عملاً صاحب اقتدار کے پاس گروی پڑا ہوتا ہے اور ووٹر کی حیثیت یرغمال سے زیادہ کچھ نہیں رہتی جس کی رائے المعروف ووٹ کو موم کی ناک کی مانند جس طرف چاہے موڑا جا سکتا ہے۔جو تماشا اس وقت جمہوریت، سیاست اور سیاستدانوں نے اس ملک میں شروع کر رکھا ہے اس کے بعد تو ان تین لفظوں سے ابکائی آنے لگی ہے ۔۔۔ جسے نہیں آ رہی اسے داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

Comments are closed.