حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا یادگار واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنی تازہ ترین تحریر میں اسلامی تاریخ کا ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہیں ۔۔۔۔۔خالد‘ سیف اللہ خالد بن ولیدؓ جب 58برس کے تھے تب بھی ۔ گٹھا ہوا جسم اور نکلتا ہوا قد۔ اب مگر وہ بستر پہ پڑے تھے‘ دل گرفتہ اور غم زدہ۔ ملاقات کے لئے ایک دوست آیا تو

خالد بن ولید نے دائیں ٹانگ سے تہمد ذرا سا سرکا دیا اور پوچھا؛ کیا ایک بالشت جگہ بھی ایسی ہے‘ جس پر معرکوں کے دوران آنےوالے گھاؤ کے نشانات نہ ہوں ؟‘‘ اس نے غور سے دیکھا اور کہا ’’نہیں‘‘ پھر اپنی بائیں ٹانگ دکھائی اور وہی سوال دہرایا۔ اس کے بعد اپنا دایاں بازو‘ پھر بایاں۔ اب خالدؓ نے اپنے فراخ سینہ دکھایااور وہی سوال دہرایا۔ ملاقاتی ششدر ‘ ایسا شخص‘ اس عمر تک جیاکیسے‘ جس کے جسم پر اتنے گھاؤ کے نشان ہوں؟ اپنی بات سپہ سالار نے واضح کر دی تھی‘ بے قراری سے پھر یہ پوچھا :سینکڑوں معرکوں میں آرزو لے کرمیدان مین اترا کہ اللہ اس قابل سمجھین گے اور مراد پاؤنگا ‘ پھر میں کیوں نہ ہو سکا؟ دوست کا جواب یہ تھا ’’ جب رسول اکرمؐ نے آپ کو سیف اللہ کا لقب بخشا تو کسی غیر مسلم کے ہاتھوں کیونکر زندگی سے محروم کیے جاتے ؟ اس کا مطلب یہ ہوتا کہ ایک خدا کو نہ ماننے والے نے سیف اللہ توڑ دی۔ خالد خاموش رہے۔ دلیل ان کے دل میں اتر گئی تھی‘ مگر ان کا جی اب بھی بے چین و بے قرار تھا۔ جس دن انتقال ہوا‘ آپ کی ملکیت چند ہتھیار تھے‘ ایک شاندار عربی گھوڑا اور جان چھڑکنے والا ایک وفادار نوکر ‘ ۔’

Comments are closed.