حقائق پر مبنی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) انگریزی ہفت روزہ ’’میگ‘‘ نے وحید پر فیچر شائع کیا جس کی مناسبت سے پورے سرورق پر اُن کی تصویرتھی اور ساتھ لکھا تھا، ’’کیسا عروج اور…‘‘(“What A Rise And …”) ۔ انٹرویو ثمرہ نیازی نے لیا۔ وحید نے اس بات سے انکار کیا کہ اُن پر ’’زوال‘‘آیا ہے۔ فلمی دنیا کی

بعض دوسری شخصیات کے تبصرے بھی اس فیچر میں شامل کیے گئے۔ اُنہوں نے ٹی وی پروگرام ’’سلور جوبلی‘‘ میں تبصرہ کر دیا (یہ پروگرام یوٹیوب پر موجود ہے)۔’’سلور جوبلی‘‘1983 میں نشر ہوا۔ میزبان انور مقصود تھے۔ اس پروگرام میں وحید کو دیکھ کر کئی لوگ حیران ہوئے۔ وہ بہت کمزور دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب تعزیتی مضامین کا سلسلہ شروع ہوا تو کسی نے لکھا بھی کہ پروگرام دیکھتے ہوئے یقین نہیں آ یا کہ یہ وحید مراد ہے بلکہ یوں لگا جیسےاُن سے ہلکی سی مشابہت رکھنے والا کوئی شخص ہے۔ وحید نے اپنے فلمی کیرئیر کے بارے میں کہا، ’’خیر، فلم انڈسٹری نے بہت کچھ دیا۔ شہرت دی، نام دیا، عزت دی، پیسہ دیا۔ بس یہ ہے کہ ایم اے کا استعمال نہیں ہوا۔ کیونکہ ایم اے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس نے پہلی جماعت بھی نہ پاس کی ہو ناں، اُس کے چانسز فلم انڈسٹری میں زیادہ ہیں آج کل۔‘‘انور مقصود نے پوچھا کہ ایم اے کا استعمال کب کریں گے تو وحید نے جواب دیا:’’ہو سکتا ہے، عنقریب! کیونکہ بیس بائیس سال جو—فلم انڈسٹری کی زندگی ہوتی ہے – صبح آٹھ نو بجے جانا، کبھی دو بجے تین بجے رات کو آنا، بے وقت کھانا، سونا، تو اِس سے میں اب کچھ حد تک اُکتا گیا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ کچھ ایسا – ایسی کوئی نوکری یا بزنس یا کچھ ایسا ہو کہ جو – جس طرح لوگ باقاعدہ زندگی گزارتے ہیں، نو سے شام پانچ چھ بجے تک – اُس کے بعد پھر اپنے بیوی بچوں کو وقت دیتے ہیں، وہ کروں۔‘‘انور مقصود نے ایک سوال اس حوالے سے کیا کہ

ماضی میں بعض ہیروئینوں نے وحید کے ساتھ کام نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ وحید نے جواب دیا، ’’یہ سوال شاید آپ کو اُنہی سے کرنا چاہیے۔ اور مجھ سے یہ کئیوں نے پوچھا اور میں نے سبھی سے یہی کہا کہ بھئی اُن سے پوچھیں کہ کیوں نہیں کیا اور اب کیوں کرتی ہیں؟‘‘کچھ عرصہ بعد ریڈیو پر خوش بخت شجاعت کو انٹرویو دیا۔ یہ زندگی میں اُن کا آخری انٹرویو ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا، ’’ایک نغمہ جو – میں سوچتا ہوں کبھی کہ اگر میں جب ایکٹر ویکٹر نہیں ہوں گا – یا ہوسکتا ہے میں رہوں بھی، دوسرے پارٹ کروں – لیکن میں اچانک غائب ہو جاؤں دنیا سے، مر جاؤں، کچھ ہو جائے، تو یہ گانا میرے بعد اگر بجتا رہے، ’بھولی ہوئی ہوں داستاں، گزرا ہوا خیال ہوں۔ جس کو نہ تم سمجھ سکے، میں ایسا اِک سوال ہوں!‘‘’’ہیرو‘‘ کی پروڈکشن میں تاخیر ہو رہی تھی لیکن اس کے نغمے ریلیز کر دئیے گئے۔ فلم کی ریلیز سے پہلے بلکہ شاید وحید کی زندگی میں ہی اِس فلم کا ایک نغمہ ریڈیو پر بار بار چل کر بہت مقبول ہو گیا۔ یہ ناہید اختر کی آواز میں تھا۔ موسیقی کمال احمد نے بنائی۔ شاعرتسلیم فاضلی تھے (یہ اُن کے بھی آخری نغمات میں سے تھا ستمبر 1983 میں لاہور میں راوی روڈ پر کار چلاتے ہوئے ان کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ مسرور انور کا کہنا ہے’’اس شام اس اطلاع کے ملتے ہی کہ وحید مراد کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، میں بیوی کے ہمراہ سروسز ہسپتال پہنچا۔ جنرل وارڈ میں وحید مراد ایک بیڈ پر لیٹا ہوا

تھا۔ اس کی خوبصورت روشن آنکھوں کو پٹی میں لپٹا دیکھ کر دل بجھ کر رہ گیا۔ میں نے قریب جا کر خیریت پوچھی۔ وحید کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا، ’زندہ ہوں!‘ پھر تھکے تھکے لہجے میں بولا، ’سمجھ میں نہیں آتا یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے۔ خدا جانے اِن گردشوں سے کب جان چھوٹے گی؟ ایک اُلجھن ختم نہیں ہوتی کہ دوسری آ جاتی ہے۔ ‘ میں نے وحید کو تسلی دی۔ پرویز ملک نے بھی سمجھایا۔ مگر وحید کی افسردگی کم نہ ہوئی۔ اسی دوران وہاں وہ آدمی آ گیا جس نے وحید مراد کو گھائل حالت میں ہسپتال پہنچایا تھا۔ اُس نے بتایا کہ یہ بہت بہادر آدمی ہے۔ یہ اپنی کار میں گھائل بیٹھے تھے۔ میں قریب پہنچا تو انہوں نے اطمینان سے کہا، میاں ذرا میری کار کو دھکیل کر پیچھے کر دو تاکہ میں ہسپتال چلا جاؤں۔ اُس آدمی نے مزید کہا کہ مجھے اُس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ ایکسیڈنٹ میں گھائل ہونے والا شخص وحید مراد ہے۔ میں ان کی جرأت پر حیران رہ گیا۔ پھر میں نے فوراً ایک گزرتی ہوئی ویگن کو روکا اور انہیں سہارا دے کر اُس میں بٹھایا اور ہسپتال لے آیا۔’’وحید مراد نے سروسز ہسپتال کے جنرل وارڈ میں تین دن کافی پریشانی اٹھائی۔ پھر پرائیویٹ کلینک میں شفٹ ہو گئے اور ایک ہفتے بعد خیریت سے اپنے گھر منتقل ہو گئے۔‘‘علاج کے بعد بھی ہونٹ اور ایک آنکھ کے پپوٹے پر نشان رہ گیا۔ پلاسٹک سرجری کا مشورہ دیا گیا۔ 11 نومبر کو وہ اپنے چھ سالہ بیٹے عادل کو ساتھ لے کر کراچی چلے گئے۔ سلمیٰ اپنی بہن مریم عیسیٰ سے ملنے امریکہ گئی ہوئی تھیں۔ عالیہ بھی ساتھ گئی تھیں۔ کراچی میں وحید کے دو فلیٹ تھے لیکن وہ ڈیفنس سوسائٹی میں اپنی منہ بولی بہن بیگم ممتاز ایوب کے گھر ٹھہرے۔ 13 نومبر کو اُنہوں نے عادل کی ساتویں سالگرہ منائی۔ اگلے دن مِڈ ایسٹ ہسپتال میں پلاسٹک سرجری کے آپریشن کے لیے وقت لیا۔ انہیں 24 نومبر کا کوئی وقت دیا گیا۔ اس کی نوبت نہیں آئی۔نومبر کی 23 تاریخ کو صبح کے قریب ان کے دل کی دھڑکن بند ہو گئی۔ ان کی میّت کا تابوت اُن کی والدہ کے پاس لاہو رلے جایا گیا۔ وہ صدمے سے بے حال ہو گئیں۔ پچھلے سال ان کے شوہر کا انتقال ہوا تھا۔ اب اکلوتا بیٹا صرف پینتالیس برس کی عمر میں فوت ہو گیا تھا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.