حقائق پر مبنی معلومات

لاہور (ویب ڈیسک) مشہور جرمن ویب سائٹ ڈوئچے ویلے نے پاک فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل امجد شعیب سے کچھ سوالات کیے: ایک سوال تھا دیکھا جائے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ آج کل جب آپ فوج سے بطور کور کمانڈر ریٹائر ہوتے ہیں تو آپ کے پاس لگ بھگ ایک ارب کے اثاثے ہوسکتے ہیں؟

جنرل شعیب: دیکھیں، جس زمانے میں بطور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائر ہوا تھا، اُس وقت آپ کو ڈی ایچ اے میں ایک کمرشل، ایک ریزیڈنشل اور ایک پلاٹ لیز پر ملتا تھا آرمی کی کنٹونمٹ کی زمینوں میں۔ کنٹونمنٹ پلاٹ کو آپ بیچ نہیں سکتے تھے اور وہ گھر بنانے کے لیے تھا۔لیکن بعد میں ہمارے آرمی افسران نے اس پر اعتراض کیا کہ گھر تو مل جاتا ہے لیکن انہیں دیگر گھریلو خرچوں کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے پلاٹ بیچنے کی اجازت ہونی چاہییے۔ اس لیے اب اسے فروخت کرنے کی اجازت ہے لیکن وہ بھی بیس سال کے بعد۔ اسی طرح افسروں کے لیے اب ڈی ایچ اے میں پلاٹ بڑھا دیے گئے ہیں۔ ڈی ایچ اے پرائیویٹ زمینیں لیتا ہے، ان کی پلاٹنگ کرتا ہے اور دیتا ہے۔آج کل بطور آرمی افسر آپ کو ڈی ایچ اے سے دو پلاٹ ملتے ہیں اور اس کے لیے کوئی قرعہ اندازی نہیں ہوتی بلکہ وہ آپ کو انتہائی سستے آفیشل ریٹ پہ ملتے ہیں۔ یہ بطور ایک فوجی افسر آپ کا استحقاق ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ کو ڈی ایچ اے میں دو کمرشل پلاٹ بھی ملتے ہیں، جو قواعد کے تحت آپ کا حق ہوتا ہے۔جنرل شعیب: دی جاتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ سب کو ملے۔ اگر میسر ہوتی ہے تو کچھ افسران کو دی جاتی ہے، لیکن سب کو نہیں۔ یہ زمین اکثر آباد نہیں ہوتی بلکہ اسے بنانا پڑتا ہے۔ کئی افسران کو جنوبی پنجاب میں بہاولپور اور رحیم یار خان کے صحرائی علاقوں میں زمینیں دی گئیں۔ اس کی کوئی خاص مالیت نہیں ہوتی کیونکہ یہ ریت کے ٹیلے ہوتے ہیں۔مثلاﹰ مجھے بھی وہاں کوئی پچاس ایکڑ ملی تھی جب میں ریٹائر ہوا تھا۔

وہاں نہ پانی تھا نہ کچھ۔ میں نے کئی سال محنت کر کے اس میں سے پچیس ایکٹر سے ریت اٹھا کر باقی پچیس ایکڑ پہ ڈلوائی۔ لیکن دس بارہ سال میں بھی کمائی کچھ نہیں ہوئی تو آخر کار میں نے اسے بیچ دیا کیونکہ مجھے اسلام آباد میں گھر بنانے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔آپ نے کہا کہ یہ زرعی زمین ہر کسی کو نہیں ملتی۔ سنا ہے کہ فوج میں ہر کام میرٹ پر ہوتا ہے، تو اس الاٹمنٹ کا کیا پیمانہ ہوتا ہے؟جنرل شعیب: اس کے لیے کئی چیزیں دیکھی جاتی ہیں۔ مثلاﹰ آپ فوج میں کتنے سال سروس میں رہے، آپ سیاچن میں کتنا عرصے تعینات رہے، لڑاکا آپریشنز یا معرکوں میں کتنا حصہ لیا اور کیسی کارکردگی دکھائی، قدرتی آفات مثلاﹰزلزلوں اور سیلابوں کے دوران امدادی کاموں میں کتنا بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔پھر ظاہر ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آفیسرز کے گھریلو حالات کا بھی احاطہ کیا جاتا ہے۔ یہ سب اس لیے کہ خواہشمند زیادہ ہوتے ہیں لیک زمین تھوڑی ہوتی ہے، اس لیے ہر ایک کو نہیں ملتی۔فوج جیسے ادارے میں ہر چیز رینک کے حساب سے چلتی ہے۔ کیا یہ کہنادرست ہوگا کہ بڑے افسران کو زیادہ جبکہ چھوٹے افسران کو کم زمین ملتی ہے؟جنرل شعیب: بلکل، سب سکیل کے مطابق ہوتا ہے۔ مثلاﹰ جنر ل کو 90 ایکڑ، لیفٹیننٹ جنرل کو 65 ایکڑ، میجر جنرل کو 50 ایکڑ ملتی ہے۔ اسی طرح اور نیچے جائیں تو صوبیدار اور حوالداروں کو 12.5 ایکڑ زمین دی جاتی ہے۔جوانوں میں بھی میرٹ کی الگ فہرست بنتی ہے۔ انہیں بھی ڈی ایچ اے میں دس دس مرلے کے پلاٹ دیے جاتے ہیں، سپاہی کو پانچ مرلے کا پلاٹ دیا جاتا ہے۔یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ ان لوگوں کا ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش لگا رہے۔ ہمارے ادارے کا مسئلہ یہ ہے کہ جیسے جیسے آپ اوپر جاتے ہیں عہدے کم ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے افسران کم عمری میں ریٹائر کر دیے جاتے ہیں۔مثلاﹰ لیفٹیننٹ جنرل 57 برس کی عمر میں، میجر جنرل 54 برس میں، بریگیڈیئر یا لیفٹننٹ کرنل اکثر 48 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں ادارہ کوشش کرتا ہے کہ انہیں ملازمت کے دیگر مواقع فراہم کیے جائیں۔(بشکریہ ڈوئچے ویلے)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *