حنا پرویز بٹ کی ایک انوکھی تحریر ،

لاہور (ویب ڈیسک) میاں نواز شریف پر الزام ہے کہ اسکی ہمیشہ لڑائی رہتی ہے اسی پراپیگنڈا کے تحت نواز شریف کے بیانیے پر اٹیکس جاری ہیں لیکن اسکی اصولوں پراختلاف رائے کر کے ڈٹ جانے کی انتہائی زبردست جرأت کوآزاد مورخ ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھے گا۔قانون اور آئین سے ہٹنا اور ہٹائے جانا اس کے

لہو میں شامل نہیں،نامور خاتون کالم نگار حنا پرویز بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1993میں اس نے ڈٹ کر کہا تھاڈکٹیشن نہیں لونگا،1999میں شجاعت کا کوہ ہمالیہ بن کر کہا تھا’’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘‘ 2014 میں سیدھا ہوگیا تھاجو کرنا ہے کر لیں،استعفیٰ نہیں دونگا،2014 میں نعرہ مستانہ لگایا ووٹ کو عزت دو، اسے جعلی مقدمے میں گھر بھجوا دیا گیا،اس کے گلے میں زبردستی غداری کا طوق ڈالا گیا، یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس کی سیاست کا باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا ، لیکن مورخ دیکھ رہا ہے، اسے غدار ٹھہرانے والے، عدالتوں سے سزا دلوانے والے ایک ایک کرکےمنظر سے غائب ہوتے جارہے ہیں جبکہ نواز شریف کی سیاست نہ صرف زندہ ہے بلکہ مریم نواز شریف کی شکل میں ایک اور موثر، تسلیم شدہ ، عوام کی پسندیدہ قیادت کا جنم ہوچکا ہے جسے روکنا ناممکن ہوچکا ہے،میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو پابند سلاسل کرکے بھی شریف خاندان میں اختلاف کی خلیج پیدا نہیں کی جاسکی ۔نواز شریف کا فلسفہ غداری نہیں بلکہ مادرِ وطن سے سچی یاری ہے۔نواز شریف کے فلسفے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ غلطیوں کو تسلیم کرلوکہ اصلاح اور بہتری کی صورت صرف مان لینے سےہی پیدا ہوتی ہے، جو کام جس کو نہ کرنا آتا ہو اسے نہیں کرنا چاہیے، مسلط کی گئی جعلی ترقی کے کردار اپنی ناکامی قبول کرتےہوئے پسپا ہوجائیں تاکہ عوام کو مشکلات کے سونامی سے نجات دلائی جاسکے ۔میاں نوازشریف فسطائیت کا منکرہے اور جمہوریت کا پیامبر ہے جس کا سفر جاری و ساری ہے، نہ اس نے راستہ بدلا،نہ ہم نے رہنما بدلا، گوجرانوالہ کے جلسہ پر آئیں بائیں شائیں کرنے والوں کی موم بتی بجھ چکی ہے ، اللہ کے کرم سےسیاسی خزاں جلد دائمی بہارکا روپ اختیار کرلے گی اورعوام کو انکی خوشیاں لوٹا دی جائیں گی۔ جمہوریت زندہ باد،پاکستان پائندہ باد۔

Sharing is caring!

Comments are closed.