حکومت نے اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ کھڑی کردی

لاہور(ویب ڈیسک) عالمی وبا کی بگڑتی صورتحال کے بعد لاہور میں 9 میں سے 6 ٹائونز میں سمارٹ لاک ڈائون لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا،محکمہ صحت کے مطابق 55 علاقوں میں 21دسمبر تک سمارٹ لاک ڈائون نافذ رہے گا ۔ پنجاب حکومت نے پاکستان مسلم لیگ ن کی میزبانی میں 13 دسمبر کو

مینار پاکستان پر منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے احتجاجی جلسے میں عوام کو شرکت سے روکنے کے لئے کرونا وائرس کے پھیلائو کا سہارا لے لیا ہے اور اس سلسلے میں لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر کے 56 مختلف علاقوں میں مکمل لاک ڈائون کرنے کی تجاویز محکمہ صحت پنجاب کو ارسال کردیں ہیں۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ شہر میں کرونا وائرس کے پھیلائو میں شدت آنے کی وجہ سے شہر کے 56 علاقوں میں مکمل لاک ڈائون کردیا جائے اور ان علاقوں سے کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہ دی جائے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے تاحال ان 56 علاقوں کے نام ظاہر نہیں کئے۔ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ شہر کے بعض علاقوں کی گلی محلوں میں سمارٹ لاک ڈائون کا نفاذ بھی کیا جائے گا۔ حکومت کی ان سفارشات کے حوالے سے پی ایم ایل کے حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ عوام کو جلسے میں شرکت سے روکنے کے لئے کیا ہے۔ اگر ضلعی انتظامیہ نے کرونا وائرس کی آڑ میں روکنے کی کوشش کی تو شہر میں 56 سے زائد علاقوں میں دما دم مست قلندر کے انعقاد کا امکان ہے حالانکہ اس حوالے سے حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ اپوزیشن کو تصادم کا موقع فراہم نہیں کرے گی۔

Comments are closed.