حکومت نے پھر متعدد پابندیوں کا اعلان کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں کورونا وائرس بڑھ گیا اور حکومت نے پابندیاں سخت کردی ہیں ۔ نیشنل کمانڈ سینٹر (این سی او سی) نے کاروبار رات 10بجے تک، مزار، شادی ہالز اور سنیما کھولنے کا فیصلہ واپس لے لیا اور اب 300؍ افراد سے بڑا اجتماع نہیں ہوسکے گا، اسلام آباد،

لاہور، مظفرآباد، پشاور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، ملتان، راولپنڈی اور سیالکوٹ کے تعلیمی ادارے 15 سے 28 مارچ تک بندرہیں گے ، پابندیاں 15؍ اپریل تک برقرار رہیں گی جبکہ 12؍ اپریل کو اس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، کراچی، کوئٹہ اور دیگر مقامات پر حالات بہتر ہیں تاہم سندھ اور بلوچستان کے اسکولوں میں50فیصد حاضری والا فارمولا برقرار رہے گا ۔ این سی او سی کے مطابق اسمارٹ لاک ڈائون کا آپشن موجود ہے ۔ اجلاس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان اور وزیر تعلیم شفقت محمود نے بریفنگ میں بتایا کہ ملک میں کورونا وائرس کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے اور ہمارے ہیلتھ سسٹم پر دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے فیصلے کئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو نیشنل کمانڈ سنٹر میں اجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کورارڈینیشن ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر سینماہائوسز، ان ڈور شادیوں اور ریسٹورنٹس میں پابندی برقرار رہے گی، اسلام آباد میں دفاتر میں 50 فیصد عملے کی حاضری کے فیصلے پر بھی عملدرآمد جاری رہے گا،تفریح پارک بھی شام 6 بجے بند کر دیئے جائیں گی، پوری قوم سے گزارش ہے کہ گھر سے باہر ماسک کااستعمال کریں اور کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے اور ہمارے ہیلتھ سسٹم پر دباؤ بڑھ رہا ہے جس کی وجہ سے کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ سنیما ہالز کو 15 مارچ سے کھولنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے اور ہوٹلوں کے اندر کھانے پر بھی پابندی عائد ہوگی جب کہ شادی ہالز کے حوالے سے بھی پالیسی برقرار رہے گی۔انتظامی ادارے سمارٹ لاک ڈاؤن پر عمل کریں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.