حکومت پاکستان نے زیادہ مالیت کے بانڈز پر پابندی دراصل کیوں لگائی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان میں بڑی مالیت کے پرائز بانڈز پر حکومتی پابندی کو فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف ٹی اے ایف) کی شرائط سے جوڑا گیا ہے کہ جن میں انسداد منی لانڈرنگ اور کالے دھن کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔فنانس ڈویژن میں ڈیبٹ آفس کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل عبد الرحمٰن وڑائچ نے

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت یہ کام ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا اس سے پہلے آئی ایم ایف اور عالمی بینک بھی پاکستان سے پرائز بانڈز پر پابندی کا کہہ چکے ہیں۔انھوں نے کہا بڑی مالیت کے پرائز بانڈز منی لانڈرنگ اور کالے دھن کو سفید کرنے کا سب سے آسان ذریعہ بن چکے ہیں۔عبدالرحمٰن نے کہا یہ بانڈز کرنسی نوٹوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں کہ جس میں ایسی ٹرانزیکشنز کی جاتی ہیں جس میں غیر قانونی لین دین شامل ہو۔انھوں نے بتایا کہ جب کسی کا بانڈ لگ جاتا ہے تو کالے دھن میں ملوث افراد ان سے یہ بانڈ خرید لیتے ہیں اور انھیں رقم ادا کر کے اپنی غیر قانونی دولت کو سفید کرتے ہیں۔ انھوں نے 7500 اور 15000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ دنیا میں تو یہ اس پر بہت عرصہ پہلے پابندی لگ چکی ہے یعنی بیرئیر پرائز بانڈ کی خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی۔عبدالرحمٰن وڑائچ نے بتایا کہ بیرئیر پرائز بانڈ پر پابندی ہر صورت لگنی چاہیے کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کی جیب سے یہ بانڈ نکلے وہ اسی کا قرار پائے۔انھوں نے کہا رجسٹرڈ پرائز بانڈز صحیح طریقہ کار ہے کہ جس کے نام پر جاری ہوا ہو وہی دوبارہ اسے بینک میں جمع کرا سکے یا انعام لگنے کی صورت میں کیش کرا سکے۔عبدالرحمٰن وڑائچ نے اسے معیشت کو دستاویزی بنانے کی طرف بھی ایک اہم قدم قرار دیا

اور کہا اس کے ذریعے جہاں کالے دھن کو سفید کرنے کا سلسلہ رک جائے گا تو اس کے ساتھ معیشت کی زیادہ بہتر دستاویز صورت ابھرے گی۔ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اس بات کی تصدیق کی پرائز بانڈز کالے دھن کو سفید کرنے کا سب سے آسان ذریعہ ہے جس پر پابندی لگنی چاہیے۔ انھوں نے کہا وہ پانچ سال سے حکومت سے کہہ رہے تھے کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے اور بلیک اکانومی کے اس ذریعے کو بند کرے۔پرائز بانڈز قومی بچت سکیموں کا حصہ ہیں جن میں ہونے والی سرمایہ کاری کے ذریعے اکٹھا ہونے والا پیسہ حکومت اپنے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔بڑی مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کے بعد لوگ رجسٹرڈ پرائز بانڈز پر جانے سے کترا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا حکومت کو بجٹ خسارے پورا کرنے کے لیے کوئی مشکل پیش آ سکتی ہے۔ 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز میں سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔اس سلسلے میں ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ حکومت اب کمرشل بینکوں سے بہت زیادہ پیسہ اٹھا رہی ہے۔انھوں نے کہا پرائز بانڈز میں دو تین سو ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، دوسری جانب حکومت کے جانب سے لیے جانے والے 11500 ارب روپے کے سامنے یہ کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق اگر لوگ پرائز بانڈز اپنے نام پر رجسٹرڈ نہیں کرانا چاہتے اور اب اپنی بچت کو ڈالروں میں لگانا چاہتے ہیں تو حکومت کو اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔انھوں نے اس سلسلے میں حکومت کو ڈالر اکاؤنٹ پر پابندی لگا دینی چاہیے تاکہ لوگ ڈالر اپنے پاس نہ رکھ سکیں۔انھوں نے کہا ’پاکستان کے زرمبادلہ کے 20 ارب ڈالر ذخائر میں سے سات ارب ڈالر تو لوگوں کے کمرشل بینکوں کے اکاؤنٹس میں پڑے ہیں۔ اس صورت میں لوگ قومی بچت کی اسکیموں کی طرف آئیں گے۔‘

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *