حکومت ڈیلیور کرنے میں بے بس ، اپوزیشن حکومت گرانے میں بے بس اور تیسرا کردار بھی بے بس ۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عجیب سیاسی موسم ہے، سب بے بس ہیں۔ حکومت ڈیلیور کرنے میں بےبس لگتی ہے، اپوزیشن حکومت کو اُتار پھینکنے میں بےبس محسوس ہورہی ہے اور تیسرا فریق حکومت کو ڈکٹیٹ کرنے میں بےبس نظر آتا ہے۔ یوں یہ بھی بےبس، وہ بھی بےبس

اور تیسرا بھی بےبس۔ اسی لئے یہ بےبسی کا موسم ہے۔ حکومت سے کچھ ہوتے نظر نہیں آتا، اپوزیشن سے کچھ بدل نہیں پا رہا اور ریفری کے بار بار ایڈوائس کے باوجود نہ تو پنجاب میں تبدیلی کی بات مانی گئی نہ وفاقی کابینہ میں تبدیلیوں پر مشورہ مانا گیا، ایسا لگتا ہے کہ سیاست کے تینوں فریق کچھ کر نہیں پا رہے۔ بالکل ایسے ہی جب صدر زرداری کی صدارت کے تیسرے سال میں میمو گیٹ کے بعد سب فریق تھک ہار کر بیٹھ گئے تھے اور طوہاً کرہاً وقت پورا کرتے رہے، اب بھی وہی صورتحال ہے۔ کسی کا بس نہیں چل رہا۔ اِس لئے بس یہ یونہی چل رہا ہے۔نظام کچھ ایسا بنا ہوا ہے کہ حکومت کو کچھ ہوگا تو لازماً تیسرے فریق کو بھی زک پہنچے گی، اِسی لئے گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی حمایت کے ساتھ ساتھ دو باتیں واضح طور پر بتا دی گئیں، وزیراعظم کے استعفیٰ کے لئے دبائو قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی الیکشن وقت سے پہلے ہوں گے۔ تیسرے فریق کی طرف سے اِن دو واضح شرائط کے ساتھ ڈائیلاگ کی بات کی گئی۔ ظاہر ہے کہ اپوزیشن اِن شرائط کے ساتھ ڈائیلاگ کے لئے کہاں تیار ہوگی؟اپوزیشن تجربہ کار ہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کئی تحریکوں اور کئی حکومتوں کا تجربہ کر چکے ہیں، اِس لئے اُن سے توقع یہی کرنی چاہئے کہ وہ کسی نادانی کا مظاہرہ نہیں کریں گے اور اپنی سیاسی چالوں کی منصوبہ بندی ایسے طریقے سے کریں گے جس سے اپوزیشن کو سیاسی فائدہ اور

حکومت کو سیاسی نقصان ہو۔ اجتماعی استعفوں کی ٹائمنگ کے حوالے سے بھی یہی نکتہ زیر غور ہوگا کہ کیا استعفے مارچ سے پہلے دیے جائیں یا بعد میں دینے چاہئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی 1985کے غیرجماعتی انتخابات کے بائیکاٹ سے یہ سبق سیکھ چکی ہے کہ ہر الیکشن میں حصہ لینا چاہئے، الیکشن کے بائیکاٹ سے آپ کے مخالفوں کو واک اوور مل جاتا ہے۔ 1983ءکے بلدیاتی انتخابات اور 1985کے غیرجماعتی انتخابات میں واک اوور سے جیتنے والے بعد میں سیاسی منظر پر نمایاں ہو گئے، اِنہی میں میاں نواز شریف اور اُن کی پارٹی کے بیشتر اراکین تھے۔ دوسری طرف ن لیگ اقتدار سے بہت طویل عرصے سے لطف اندوز ہوتی رہی ہے، اُس کے اراکینِ اسمبلی اور منتخب لوگ احتجاجی سیاست کے تقاضوں سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے، اِس لئے ن لیگ کو چاہئے کہ وہ احتجاجی سیاست کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے تجربات سے فائدہ ضرور اُٹھائے۔ اپوزیشن اجتماعی استعفے تبھی دے گی جب اُس کو یقین ہوگا کہ اُن کے استعفوں سے نظام مفلوج ہو جائے گا اور نئے الیکشن کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں رہے گا۔ لانگ مارچ کے پیچھے بھی یہی فلسفہ کارفرما ہوگا کہ اِس سے حکومتی رٹ کو چیلنج کیا جائے اور سیاسی تصادم کا ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں سیاسی کشیدگی کے حل کے لئے دبائو پیدا ہو جائے، اپوزیشن اپنے اِن اقدامات کو فیصلہ کن نتیجے تک پہنچانے تک کی حکمت عملی لازماً ترتیب دے رہی ہوگی۔دوسری طرف حکومت کی ممکنہ جوابی حکمت عملی یہ ہوگی کہ کسی نہ کسی طرح مارچ کو گزارا جائے، لانگ مارچ سے پہلے سینیٹ کا انتخاب ہو جائے، ہو سکتا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لئے بھی کوئی سنجیدہ کارروائی کرے۔ حکومت کی سوچ یہ ہے کہ اگر سینیٹ کا الیکشن ہو گیا اور تحریک انصاف کی سینیٹ میں اکثریت آگئی تو اُسے قانون سازی میں آسانی پیدا ہو جائے گی۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد اگلے دو سال میں کوئی بڑا سیاسی معرکہ درپیش نہیں ہوگا، اِس لئے حکومت کسی چیلنج کے بغیر اپنا وقت گزار لے گی۔ بظاہر سینیٹ انتخابات کے بعد ہی سے اگلے انتخابات کے لئے صف آرائی اور منصوبہ بندی شروع ہو جائے گی۔ حکومت کی بےبسی یہ ہے کہ اُن کے پاس کچھ ایسا نیا نہیں جس سے وہ اگلے دو تین سال لوگوں کو بہلائے رکھے یا مطمئن کر سکے۔ صحت کارڈ ایک واحد سیاسی حربہ ہو سکتا ہے جس کا کچھ سیاسی اثر ہو سکے وگرنہ حکومتی اقدامات میں تخلیقی پن اور نیا پن نہیں اور اگر یہ ایسا ہی رہا تو پھر تحریک انصاف عوامی اور سیاسی سطح پر کوئی کرشمہ نہیں دکھا سکے گی اور یوں اُس کے سیاسی مخالفین کے ہاتھ مضبوط ہوتے جائیں گے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *