حیران کن اعداد وشمار

لاہور (ویب ڈیسک) دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایران اور سعودی عرب میں تختہ دار کی سزا کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے۔ ایسا کہتے وقت یہ حضرات کوئی اعداد و شمار نہیں پیش کرتے۔ آخر کس سال کے جرائم کو بنیاد (بنچ مارک) بنا کر آپ یہ بات کر رہے ہیں؟ اور کن برسوں میں

جرائم بڑھے اور کتنے بڑھے؟ کوئی حوالہ تو دیجیے۔نامور کالم نگار محمد اظہار الحق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہمارے سامنے اس وقت جو دستاویز کھلی ہوئی ہے‘ وہ فن لینڈ میں قائم ”یورپین انسٹی ٹیوٹ فار کرائم کنٹرول‘‘ کی شائع کردہ پبلی کیشن سیریز نمبر55 ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ سے وابستہ ہے۔ یہ دستاویز یورپی ملکوں میں 1995ء اور 2004ء کے درمیان جرائم کی کمی یا بیشی کے اعداد و شمار پیش کرتی ہے۔ اس کی رو سے ان دس برسوں میں جرائم مندرجہ ذیل فی صد بڑھے: سویڈن6 فی صد۔۔فن لینڈ 38 فی صد۔۔بلجیم 38 فی صد۔۔آسٹریا 30 فی صد۔۔شمالی آئرلینڈ 83 فی صد۔۔یونان35فی صد۔۔سپین 31 فی صد۔۔سوئٹزر لینڈ 19 فی صد۔۔ڈنمارک، جرمنی، لکسمبرگ، آئر لینڈ اور ہنگری میں جرائم پہلے کی نسبت کم رونما ہوئے۔numbeo.com بہت بڑی ویب سائٹ ہے جو دنیا کے مختلف ملکوں میں رائج قیمتوں، جرائم اور دیگر اشاریوں کو انڈیکس کی صورت میں پیش کرتی ہے۔ اس ویب سائٹ کو حوالے کے طور پر پیش کرنے والوں میں اکانومسٹ، بی بی سی، ٹائم میگزین، فوربس، نیویارک ٹائمز، دی ٹیلی گراف، سڈنی مارننگ ہیرالڈ، چائنہ ڈیلی، واشنگٹن پوسٹ اور کئی دیگر اخبارات و جرائد شامل ہیں۔ اس ویب سائٹ نے سال رواں یعنی 2020ء کے وسط میں جرائم کا جو انڈیکس پیش کیا ہے اس کی رو سے سعودی عرب کا کرائم انڈیکس 26.68 فیصد ہے اور ایران کا 48.91 فیصد۔ اب اس کے مقابلے میں امریکہ اور یورپی ملکوں کے کرائم انڈیکس ملاحظہ فرمائیے:یو ایس اے 47.70۔۔سویڈن 47.43۔۔فرانس 47.37۔۔بلجیم 45.29۔۔برطانیہ 44.54۔۔اٹلی 44.24۔۔نیوزی لینڈ 42.19۔۔آسٹریلیا

41.67۔۔دیکھ لیجیے کہ سعودی عرب کا کرائم انڈیکس ان سب یورپی ملکوں اور امریکہ سے کم ہے۔ اب بھی یہ کہنا کہ سعودی عرب میں اس سخت سزا کے باوجود جرائم کم نہیں ہوئے، ایک بے سر و پا بات ہے۔ ایران کا کرائم انڈیکس زیادہ ہے مگر کتنا زیادہ؟ 45‘ 47 اور 48 میں کتنا فرق ہے؟ سب سے کم کرائم انڈیکس قطر کا ہے یعنی 11.90، تائیوان کا 15.26ہے‘ متحدہ عرب امارات کا 15.45 ہے اور عمان کا 20.62 ہے۔ ان چاروں ملکوں میں اس سزا کا قانون موجود ہے۔امریکہ کی لگ بھگ نصف یعنی 25 ریاستوں میں یہ سزا ختم کر دی گئی ہے۔ ہر دس لاکھ سعودیوں میں 10.23 افراد کسی کی جان لینے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں جب کہ امریکہ میں ہر دس لاکھ افراد میں 42.01 افراداس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں یعنی چار گنا زیادہ۔ہم کوئی مذہبی حوالہ نہیں دے رہے۔ غیر مسلم ممالک میں بھی ڈیتھ پینلٹی دینے کا قانون موجود ہے مگر احساس کمتری اتنا شدید ہے کہ نظر پاکستان، ایران اور سعودی عرب ہی پر پڑتی ہے۔ یوں بھی مسئلہ یہ سخت ترین سزا دینے یا نہ دینے کا نہیں ہے۔ اصل ایشو ہمارا نظام ہے۔ مناسب قانون سازی نہ کیے جانے کے سبب مجرم چھوٹ جاتے ہیں اور بے گناہ زندانوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ قوانین میں اتنے سقم ہیں کہ عدلیہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس سزا کا فائدہ بھی تب ہے جب دلوں میں یہ یقین راسخ ہو کہ سزا ملے گی اور جلد ملے گی، ضمانت نہیں ہو گی اور چھوٹنا نا ممکن ہو گا۔ اس کے لیے پولیس کی چابک دستی اور سیاسی مداخلت سے نجات ضروری ہے۔ہم ملا نصیرالدین کی طرح سوئی باہر سڑک پر تلاش کر رہے ہیں جبکہ سوئی کمرے میں گم ہوئی ہے۔ دلیل ہماری یہ ہے کہ سڑک پر روشنی ہے اور کمرے میں اندھیرا ہے۔ خرابی کہیں اور ہے مگر ہم اُس طرف دیکھنا نہیں چاہتے۔ ایک ایک دن میں متعدد عورتوں کے ساتھ غیر اخلاقی فعل کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ انسان درندے بن گئے ہیں۔ ان کی اپنی مائیں کہہ رہی ہیں کہ انہیں زندگی سے محروم کردیا جائے اور ہمیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ کہیں انہیں واقعی سزا نہ دے دی جائے۔ کل کو ہم یہ مطالبہ بھی کر دیں گے کہ سانپ اور بچھو ڈستے ہیں تو ڈسنے دو مگر انہیں ختم نہ کرو۔ مانا کہ عورت کو کمتر سمجھنے والے مائنڈسیٹ میں تبدیلی بھی ضروری ہے مگر اُسی سانس میں عورت کے بدترین دشمنوں کو بچانے کی فکر!! یہ تضاد نہیں فساد ہے!!

Sharing is caring!

Comments are closed.