حیران کن تاریخی حقائق

لاہور (ویب ڈیسک) بھولو پہلوان کے صاحبزادے ناصر بھولو نے ایک میڈیا گروپ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’کسی بھی فن کی سرپرستی بہت ضروری ہے، چاہے زیادہ ہو یا کم۔ ہماری تو تھوڑی سی بھی نہیں ہوئی۔ اگر تھوڑی بہت بھی سرپرستی ہوتی تو یہ سلسلہ ختم نہ ہوتا۔

نامور صحافی عبدالرشید شکور بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ہمارے بڑوں نے اپنی محنت کے بل بوتے پر ملک کا نام روشن کیا۔ جب ہمارے بزرگ پاکستان آ رہے تھے تو ہندوستانی حکومت نے میرے والد صاحب کو وہیں رہنے کی پیشکش کی تھی کہ آپ کو جو کچھ چاہیے وہ دیں گے لیکن ہمارے بزرگوں نے پاکستان کو ترجیح دی تھی۔‘وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں انھیں ’اللہ نے بڑی عزت دی لوگوں نے بہت پیار دیا لیکن صاحب اقتدار حلقوں نے جو حالت کی، میں اسے کیا بیان کروں۔‘ناصر بھولو کہتے ہیں ’میں اپنا یہ سلسلہ ختم نہیں کرنا چاہتا، اسی لیے کراچی میں اکھاڑا قائم رکھا ہے۔‘ناصر بھولے کے مطابق ’ایک پہلوان بننے میں بہت زیادہ محنت اور پیسہ درکار ہوتا ہے۔ جب میرے چچا کے بعد جھارا نے انوکی سے کشتی کی تو اس دور میں ہم پہلوانوں نے دو سال تک اپنے گھر کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم لوگ اتنی سخت ٹریننگ میں مصروف تھے کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ اس ٹریننگ میں کوئی مخل ہو۔‘وہ کہتے ہیں ’دراصل ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ پہلوانی لوہے کے چنے ہیں جو انھیں چبائے گا وہی پہلوان ہے۔‘انھوں نے کہا ’ہمارے دور میں ایک پی ٹی وی ہوتا تھا لیکن سرکاری ٹی وی ہونے کی وجہ سے اس کے پاس بھی وقت نہیں ہوتا تھا۔ چند اخبارات تھے جن میں خبریں شائع ہو جاتی تھیں۔ آج میڈیا بہت مؤثر ہے اور اگر وہ چاہے

تو آج بھی صرف ہمارے خاندان سے ہی نہیں بلکہ دوسری جگہوں سے بھی پہلوان سامنے آ سکتے ہیں کیونکہ ٹیلنٹ موجود ہے۔‘ناصر بھولو کو امید ہے کہ اُن کے خاندان سے کوئی نہ کوئی پہلوان دو تین سال میں سامنے آ جائے گا۔ناصر بھولو نے سابق فوجی حکمران ضیا الحق کی طرف سے عائد پابندی کے بارے میں بتایا کہ ’بھولو پہلوان نے ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ حکومت ہماری سرپرستی نہیں کرتی۔ ہمارے ساتھ اتنا برا سلوک کیا جا رہا ہے کہ اگر ہمیں کسی دنگل کے لیے گراؤنڈ چاہیے تو اس کے لیے بہت زیادہ معاوضہ طلب کیا جاتا ہے۔ یہ حق تلفی نہیں ہونی چاہیے اگر آپ ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں تو ہمیں یہاں سے جانے کی اجازت دی جائے ہم یہاں رہنا نہیں چاہتے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ انٹرویو کرنے والے نے سوال کیا کہ آپ کہاں جائیں گے؟ ’میرے والد صاحب نے کہا کہ ظاہر سی بات ہے کہ جہاں ہماری زبان سمجھی جائے گی ہم وہیں جائیں گے، یعنی جہاں سے ہم آئے تھے۔‘پھر سوال کیا گیا کہ انڈیا؟’والد صاحب نے کہا کہ بے شک۔‘ انھوں نے بتایا کہ اس بات پر ضیا الحق ناراض ہو گئے اور انھوں نے ہمارے انڈیا جانے پر پابندی عائد کر دی حالانکہ ایک بار کرکٹ میچ کے سلسلے میں جانا چاہتے تھے اور ایک بار رستم ہند پہلوان سے مقابلے کا موقع تھا لیکن جانے کی اجازت نہ مل سکی۔ناصر بھولو نے ایک فلم میں بھی کام کیا لیکن انھیں خاندان والوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا

جس کی وجہ سے وہ مزید فلموں میں کام نہ کر سکے۔انھیں انڈیا سے بھی فلم کی آفر ہوئی تھی لیکن اس وقت پوری فیملی کے انڈیا جانے پر پابندی تھی۔ناصر بھولو کہتے ہیں ’میں سنہ 1985 میں الیکشن بھی لڑ چکا ہوں لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ اس وقت صورتحال کچھ ایسی ہوئی تھی کہ مجھے الیکشن لڑنا پڑا تھا حالانکہ والد صاحب اس بات کے سخت مخالف تھے۔‘ناصر بھولو کہتے ہیں ’میرے پاس خاندان کے بڑوں کے جیتے گئے گُرز کے علاوہ رستم زماں گاماں پہلوان کی وہ بیلٹ بھی یادگار کے طور پر موجود ہے جو انھیں لندن میں زبسکو کو شکست دینے پر دی گئی تھی۔ وہ بیلٹ ایسے پڑی ہے جیسے کسی کو اس بارے میں پتہ ہی نہیں ہے دراصل اس کی قدر وہی جانے جسے اس کا پتہ ہو۔‘انھوں نے کہا کہ اب تو لوگوں نےگُرز کا بھی مذاق بنا دیا ہے کہ چھوٹی موٹی کشتیوں میں بھی گُرز دیے جاتے ہیں جبکہ ماضی میں گُرز بند پہلوان وہ کہلاتا تھا جو پورے برصغیر کے پہلوانوں کو ہراتا تھا۔ناصر بھولو اور بیگم کلثوم نواز دونوں کی والدہ سگی بہنیں تھیں۔ناصر بھولو کہتے ہیں ’ایک الیکشن کے بعد میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں رہا لیکن بیگم کلثوم نواز سے بہت ملنا جلنا رہا۔ وہ مجھے چھوٹے بھائی کی طرح محبت کرتی تھیں۔ میرے لیے وہ بڑی بہن تھیں۔ ان کے انتقال سے چند روز پہلے میں نے انھیں فون کیا تھا حالانکہ ڈاکٹرز نے انھیں بات کرنے سے منع کر رکھا تھا لیکن انھوں نے مجھ سے بات کی تھی۔ میرے لیے وہ بہت قابل احترام تھیں۔‘(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *