حیران کن تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار خورشید ندیم اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیپلزپارٹی اگر نوازشریف کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ مضحکہ خیز ہوگا۔ اس دور میں سب سے زیادہ ستم شریف خاندان نے اٹھائے ہیں۔ شہباز شریف بیٹے کے ساتھ قید میں ہیں۔ مریم نوازملک میں ہیں

اور انہیں گرفتار کرنے کے مواقع تلاش کیے جارہے ہیں۔ نوازشریف آئیں گے تو قید میں ہی جائیں گے۔ کیا پیپلزپارٹی یہی چاہتی ہے؟ یہ کسی کا انفرادی نقطہ نظر توہو سکتا ہے مگر پیپلزپارٹی بطور جماعت یہ موقف اختیار کرے گی تو اس کا دفاع مشکل ہوجائے گا۔اگر اپوزیشن اس معرکے میں سرخرو ہونا چاہتی ہے تواس کے لیے چند بنیادی نکات پر اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام یا نون لیگ کو تنہا کیا گیا تواس کی سزا سب کو ملے گی۔ ایک طرف سب تیرایک ترکش میں اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف موجود تیر بے سمت چلنے لگیں تو یہ کوئی اچھی حکمتِ عملی نہیں ہوگی۔ صاحبانِ اقتدار اپوزیشن کو کوئی راستہ دینے کیلئے تیار نہیں۔ ان کا اپوزیشن کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ بغیر احتجاج کیے، اس نظام کو قبول کرے۔ یہ نظام اگر شہباز شریف کی طرح اس کے راہنماؤں کو قید میں رکھے تو اف نہ کرے۔ وزرا اس کو بے توقیر کریں تو ہنسی خوشی برداشت کرے۔ پارلیمنٹ میں جو قانون بنے، نہ صرف اس کی تائید کریں بلکہ اس کے ساتھ وہ تقاریر بھی شوق و ذوق کے ساتھ سنے جو ان کی مذمت میں کی جائیں۔اگر اپوزیشن کویہ ‘پیکیج‘ منظور ہے تواس کی مرضی۔ اگر وہ عزت کے ساتھ جینا چاہتی ہے تو اس کی ایک قیمت ہے جو اس کو ادا کرنی ہے۔ پہلی قیمت جماعتی مفاد سے بلند ہونا ہے۔

Comments are closed.