حیران کن تفصیلات

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے پاکستان اسٹیل ملز کی حالت زار کا ذمہ دار انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر غلط کام نہیں ہوسکتا، انتظامیہ اور افسر قومی خزانے پر بوجھ ہیں، مل بند ہے تو انتظامیہ کیوں رکھی ہوئی ہے؟

بند مل کو کسی ایم ڈی یا چیف ایگزیکٹو کی ضرورت نہیں ہوتی،تمام افسر اور ملازمین کو فارغ کرکے مل کو تالا لگائیں۔جبکہ وزیر نجکاری اور وزیر منصوبہ بندی کو 9 فروری کو طلب کر لیاگیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کی ترقیوں سے متعلق کیس پر سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے اسٹیل ملز کی حالت زار کا ذمہ دار انتظامیہ کو قرار دیدیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر کوئی غلط کام نہیں ہوسکتا، کیا حکومت نے اسٹیل مل انتظامیہ کیخلاف کارروائی کی؟ اسٹیل ملز انتظامیہ اور افسران قومی خزانے پر بوجھ ہیں، مل بند پڑی ہے تو انتظامیہ کیوں رکھی ہوئی ہے؟ بند اسٹیل مل کو کسی ایم ڈی یا چیف ایگزیکٹو کی ضرورت نہیں۔ ملازمین سے پہلے تمام افسران کو اسٹیل مل سے نکالیں۔پاکستان اسٹیل ملز کے وکیل شاہد باجوہ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ تمام انتظامیہ تبدیل کی جا چکی ہے، اسٹیل ملز میں 1800 سے زائد افسران تھے جن میں سے اب 439 رہ گئے ہیں، اسٹیل ملز کا یومیہ خرچ 2 کروڑ روپے تھا جو اب ایک کروڑ رہ گیا ہے، اب تک 49 فیصد ملازمین نکال چکے مزید کیلئے عدالتی اجازت درکار ہے۔لیبر کورٹ کی اجازت کے بغیر مزید ملازمین نہیں نکال سکتے۔جس پر جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ انتظامیہ تبدیل کرنے سے کیا مل فعال ہوجائے گی؟ مل ہی بند پڑی ہے تو 439 افسران کر کیا رہے ہیں؟ پاکستان کے علاوہ پوری دنیا کی اسٹیل ملز منافع میں ہیں، اسٹیل ملز میں اب بھی ضرورت سے زیادہ عملہ موجود رہیگا۔ اسٹیل ملز ملازمین میں اسپتال اور اسکولوں کا عملہ بھی شامل ہے۔ اجازت براہ راست سپریم کورٹ دے گی لیکن پہلے افسران کو نکالیں۔پاکستان اسٹیل ملز کے وکیل نے کہا کہ اسٹیل مل ملازمین نے سی ای او کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا ہے، انکے گھر کے دروازے پر خواتین کو بٹھا دیا گیا ہے، ملازمین نے سی ای او کے گھر کے باہر انکی قبر بھی بنائی ہوئی ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.