حیران کن حقائق پر مبنی رپورٹ

واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی محکمہ دفاع پیٹاگون نے اندرون ملک اور بیرون ملک کارروائیوں کیلئے اپنی ایک علیحدہ خفیہ فوج بھی بنارکھی ہے، 60 ہزار اہلکاروں پر مشتمل یہ دنیا کی سب سے بڑی خفیہ فوج ہے جو گزشتہ ایک دہائی میں بنائی گئی ہے، اس فورس میں بیشتر افراد اپنی اصل

شناخت کی بجائے دوسرے ناموں سے کام کرتے ہیں اور منظر عام پر کھل کر سامنے نہیں آتے، یہ امریکا کے ایک بڑے پروگرام ’’سگنیچر ریڈکشن‘‘ کا حصہ ہے۔یہ فورس امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے 10 گنا بڑی ہے جو اندرون ملک، بیرون ملک، فوجی یونیفارم میں، بطور شہری، حقیقی زندگی میں، آن لائن، بسا اوقات نجی کاروبار اور مشاورتی کمپنیوں میں رہ کر بھی اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں۔اس بے مثل فورس میں بڑی تعداد میں فوجی اہلکار، شہری اور کانٹریکٹرز بھی شامل ہیں جو جھوٹی شناخت سے کام کرتے ہیں، پینٹاگون کو درپیش سائبر وار کے پیش نظر ہزاروں کی تعداد میں جاسوس روزانہ مختلف ناموں سے کام کررہے ہیں جیسا کہ روس اور چین کے جاسوس کام کرتے ہیں۔اس خفیہ دنیا کے بارے میں امریکی میگزین کی ایک ایکسکلوزیو رپورٹ سامنے آنے کے بعد دو سال تک تحقیقات چلتی رہیں۔ اس پروگرام کی اصل تعداد کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا جبکہ اس خفیہ پروگرام سگنیچر ریڈکشن کے بارے میں کبھی بھی تحقیقات نہیں ہوئیں۔امریکی کانگریس نے کبھی بھی فوج کے اس خفیہ پروگرام کے بارے میں سماعت نہیں کی۔ امریکی میگزین نیوز ویک کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے مذکورہ خفیہ فورس امریکی قوانین، جنیوا کنونشن، فوجی قواعد وضوابط اور بنیادی احتساب کے برخلاف ہے۔ سنگیچر ریڈکشن نے ایک بڑی خفیہ فورس کے اپنے مقصد کیلئے 130 کمپنیوں کو استعمال کیا۔سگنیچر ریڈکشن فورس کی کل تعداد میں نصف سے زائد پر مشتمل اسپیشل آپریشن فورسز بنائی گئی، ان خفیہ اہلکاروں نے پاکستان سے لیکر مغربی افریقا تک بے امان مقامات میں نہ صرف سرپسندوں کا پیچھا کیا بلکہ ان ہاٹ اسپاٹس کا بھی پتہ لگایا جن کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا جن میں شمالی کوریا اور ایران جیسے دشمن ممالک کے مقامات بھی شامل ہیں۔

Comments are closed.