حیران کن خبر

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکا کے نومنتخب صدر کے سامنے جہاں کووڈ -19اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم مسائل ہیں،وہیں جوبائیڈن کو امریکی سینیٹ میں کڑے امتحان کا سامنا ہوگا،امریکی سینیٹ میں بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے لائی جانیوالی کسی بھی قانون سازی کو ری پبلکن سے گزرنا ہوگا اور ماہرین کاکہنا ہے کہ اس کیلئے بائیڈن

حکومت کو رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا۔اے ایف پی کے مطابق 77 سالہ جو بائیڈن ڈیموکریٹ کی مدد سے سینیٹ میں اتررہے ہیں لیکن سینیٹ کا میدان اب بھی ریپبلکن کے ہاتھوں میں ہے جو کہ بائیڈن کی حریف جماعت ہے۔امریکی وزیرخارجہ،پنٹاگون چیف،اٹارنی جنرل جیسے عہدوں کو سینیٹ سے منظوری درکار ہوتی ہے،ماہرین کاکہنا ہے کہ امریکی سینیٹ میں 36 سال کا تجربہ رکھنے والے اور اس کے بعد 8 سال نائب صدر کا عہدہ رکھنے والے بائیڈن کو ری پبلکن کیخلاف تیار رہنا ہوگا،سیاست کے پروفیسر جون پٹنے نے کہا کہ انہیں کسی بھی حقائق کیلئے سامنا کرنا ہوگا۔ دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے اتوار کے روز وائٹ ہائوس میں سکونت اختیار کرنے کی جانب پہلا قدم بڑھایا ہےاور انتقال اقتدار کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے.وہ 73 روز بعد وائٹ ہائوس کا چارج سنبھالیں گے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اپنی شکست کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آرہے ہیں اور اب بھی انتخابی نتائج پر شکوک وشبہات اٹھا رہے ہیں جوبائیڈن کی جیت پر کئی ریبپلکن رہنما بھی خاموش ہیں تاہم ریبپلکن کی جانب سے دو مرتبہ صدر منتخب ہونے والے سابق صدر جارج ڈبلیو بش نے انتخابی نتائج کو شفاف قرار دیتےہوئے جوبائیڈن کو مبارکباد پیش کردی ہے ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *