حیران کن معلومات پر مبنی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) بی بی سی کی ایک اسپیشل رپورٹ کے کچھ اقتباسات ملاحظہ کیجیے ۔۔۔۔۔۔۔13ویں صدی عیسوی کے آغازمیں شمال مغربی ایشیا کی چراگاہوں سے ایک ایسا بگولہ اٹھا جس نے دنیا کی بنیادوں کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ چنگیز خان کی سفاک دانش کی رتھ پر سوار منگول

موت اور تباہی کا ہرکارہ ثابت ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے شہر کے بعد شہر، علاقے کے بعد علاقہ اور ملک کے بعد ملک ان کے آگے سرنگوں ہوتے چلے گئے۔چند برس پہلے ایک جینیاتی تحقیق سے معلوم ہوا کہ سابق منگول سلطنت کی حدود میں رہنے والے آٹھ فی صد کے قریب مردوں کے وائی کروموسوم کے اندر ایک ایسا نشان موجود ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ منگول حکمران خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔اس تحقیق سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ دنیا میں تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ مرد یا دنیا کے مردوں کی کل تعداد کا 0.5 فیصد ایسے ہیں جن کے خون کا رشتہ اوپر جا کر جا کر چنگیز خان سے جا ملتا ہے۔پاکستان میں یہ مخصوص نشان ہزارہ قبیلے کے افراد کے ڈی این اے میں پایا جاتا ہے جو ویسے بھی خود کو منگول کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مغل، چغتائی اور مرزا ناموں والے بعض لوگ بھی اپنے آپ کو منگول نسل کا بتاتے ہیں۔کسی ایک شخص کی اتنی اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟جینیاتی تحقیقی اپنی جگہ، اس بات کے تاریخی شواہد بھی پائے جاتے ہیں۔چنگیز خان نے خود درجنوں شادیاں کیں اور ان کے بیٹوں کی تعداد 200 بتائی جاتی ہے۔ پھر ان میں سے کئی بیٹوں نے آگے جا کر حکومتیں قائم کیں اور ساتھ ہی ساتھ وسیع و عریض حرم رکھے جہاں ان کے بڑی تعداد میں بیٹے پیدا ہوئے۔مشہور تاریخ دان ملک عطا جوینی اپنی کتاب ‘تاریخِ جہاں گشائی’ میں چنگیز خان کی موت کے صرف 33 سال بعد لکھتے ہیں:’اس وقت اس کے خاندان کے 20 ہزار افراد عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ میں اس کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہوں گا۔ کیوں کہ ایسا نہ ہو اس کتاب کے قارئین اس کے مصنف پر مبالغے کا الزام لگا لیں اور یہ کہنا شروع کر دیں کہ اتنے مختصر وقت میں ایک شخص کی اتنی زیادہ اولاد کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟’

Sharing is caring!

Comments are closed.