حیران کن پیشگوئی کر دی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) شاید شہباز شریف کا ”ہومیو پیتھک‘‘ بیانیہ اس حکومت کو راس نہیں آ رہا تھا جو نواز شریف کی شعلہ بیانی کو ہو ا دی گئی۔ پہلے مولانا صاحب اکیلے تھے‘ اب مریم اور نواز شریف بھی اسی راہ کے مسافر ہیں۔ وہ‘ وہ باتیں کی جا رہی ہیں

کہ سننے والے دنگ رہ جاتے ہیں۔ نامور کالم نگار انجم فاروق اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ایسے ایسے واقعات بیان کیے جا رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی خلقِ خدا نے سنے نہ پڑھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ چار سُو انارکی پھیل رہی ہے اور مستقبل کا خوف گہرا ہوتا جا رہا ہے، عوام میں بھی اور ان کی اپنی جماعت میں بھی۔ یوں گمان ہوتا ہے کہ میاں صاحب بنا سوچے سمجھے بول رہے ہیں۔ انہیں ادراک ہی نہیں کہ ان کی پارٹی اس بیانیے کا بوجھ اٹھا سکتی ہے یا نہیں؟ وہ شاید بھول گئے ہیں کہ ایسی ”بے باکی‘‘ لندن میں بیٹھ کر ہی ہو سکتی ہیں‘ پاکستان میں نہیں۔ یہ باتیں شہباز شریف کر سکتے ہیں نہ شاہد خاقان، رانا ثنا اللہ بول سکتے ہیں نہ احسن اقبال۔ میرا احسا س ہے کہ میاں نواز شریف نے ساری پارٹی کو اس راہ پر دھکیل دیا ہے جہاں صبح ٹھنڈی ہے نہ شام، دھوپ معتبر ہے نہ سایہ۔ہوا چلی تو کوئی نقش معتبر نہ بچا۔۔کوئی دیا‘ کوئی بادل‘ کوئی شجر نہ بچا۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی درجہ حرارت بڑھانے سے حکومت کو کیا ملا؟ کیا عوام کے دکھ، درد اور تکلیفیں دور ہو سکیں؟ کیا لوٹی دولت واپس آ سکی؟ کیا حکومت بتائے گی کہ اسے مینڈیٹ صرف احتساب کرنے کا ملا تھا؟ کیا عوام کی داد رسی حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ کیا معیشت کو سنبھالا دینے کا مینڈیٹ حکومت کے پاس نہیں؟ اگر ہے تو جی ڈی پی کا حجم

314 ارب ڈالر سے کم ہو کر 260 ارب ڈالر پر کیوں آ گیا؟ مہنگائی کی شرح تین سے چار گنا کیوں بڑھ گئی؟ روپے کی قدر میں 35 فیصد سے بھی زائد کمی کیوں ہوئی؟ تیس لاکھ کے قریب لوگ بیروزگار کیونکر ہوئے؟ ملکی ترقی کی شرح منفی میں کیوں چلی گئی؟ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا حکومت پر اعتبار کم کیوں ہو گیا؟ اگر حکومت کی طبیعت پر گراں نہ گزرے تو اتنا کہنے کی جسارت کروں گا کہ سیاسی درجہ حرارت جتنا زیادہ ہو گا‘ حکومت کے لیے مسائل اتنے بڑھ جائیں گے۔ چند ہزار لوگ بھی سڑکوں پر آ گئے تو لاء اینڈ آرڈرکا مسئلہ شدید ہو جائے گا۔ پھر کہاں کا کاروبار اور کون سی معیشت۔ نقصان صرف ملکی خزانے کا ہو گا یا پہلے سے بدحال عوام کا۔خدارا! اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ صرف اپنے خاندان نہیں‘ 22 کروڑ لوگوں کے کنبے کا بوجھ وزیراعظم کے کندھوں پر ہے۔ احتساب ضرور کریں مگر صرف احتساب نہیں‘ گورننس کو اپنی ترجیح بنائیں۔ چور‘ضرور پکڑیں مگر صرف اپوزیشن سے نہیں۔ زبان زدِ عام ہے کہ ملک میں احتساب کی ”یکطرفہ‘‘ ہوا چل رہی ہے جس کے باعث افراتفری کا موسم آنے والا ہے۔ اس موسم کی شدت کتنی ہو گی‘ اس کا سارا انحصار حکومت کے رویے پر ہے۔ اب بھی وقت ہے حکومت اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا چھوڑ دے۔ اگر یہی روش رہی تو اس بار لہو صرف حکومت اور اپوزیشن کا نہیں نکلے گا عوام بھی حصہ دار ہوں گے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *