خاتون اول، اسد عمر اور اعظم خان ذمہ دار ہیں یا نہیں ، عمران خان کا جانا پکا ہے ۔۔۔۔ دلائل کے ساتھ پیشگوئی کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) وزیر اعظم ہائوس اور ایوانِ صدارت پر بیوروکریسی کا قبضہ ہوتا ہے۔ بیوروکریسی کی اونچی فصیلوں میں سیاسی مشیر راستہ بناتے ہیں، جائز شکایات کو دور کرنے کے لیے، اپنی ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے۔ پتہ نہیں یہ تجربے کی کمی ہے یا بیوروکریسی کی عیاری

نامور کالم نگار ناصر خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کہ وزیراعظم کچھ اُلجھ سے گئے ہیں۔ کوئی خاتونِ اول کو ذمہ دار ٹھہرارہا ہے، کوئی اسد عمر کو اور کوئی اعظم خان کو جو بیوروکریسی کے بیرم خان ہیں اس وقت۔ پنجاب کے سیاست دانوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ پرائم منسٹر ہائوس پر ایک ہی صوبے کی بیوروکریسی غالب ہے۔ ماضی میں ہمیشہ پنجاب کی بیوروکریسی غالب رہی ہے اس لیے اسے تعصب نہیں البتہ تجربے کی کمی ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ پنڈورا باکس اب ہی کیوں کھلا ہے؟ اس کی بے شمار وجوہات ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دل کا جانا ٹھہر گیاہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ دل کو بھی پتہ ہے۔ فوری وجہ یہ بنی ہے کہ وزیراعظم صاحب اور سیاستدانوں اور اتحادیوں کے درمیان ایک سیاسی پل تھا۔ وہ ہر وقت وزیراعظم کے کیے ہوئے نقصانات کا ازالہ کرتا رہتا تھا۔ وہ اتحادیوں کو مناتا بھی تھا … انہیں حکومت سے نکلنے سے روکتا بھی تھا۔ ان کی جائز شکایات کا ازالہ بھی کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کی انویسٹمنٹ بھی تھی اور اس کے Stakes بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ جب میاں نواز شریف اور شہباز شریف احتساب کے ریڈار میں آئے تو خان صاحب سے بھی دو قربانیاں مانگی گئیں۔ خان صاحب نے پرویز خٹک کو بچالیا اور پنجاب سے دو قربانیاں پیش کردیں۔ جہانگیر ترین اور علیم خان … الیکشن سے لے کر حکومت بنوانے تک دونوں کا بڑا اہم کردار تھا۔ جہانگرین ترین چودھری برادران سے پرویز مشرف تک سب کے قریب رہے ہیں۔ اُن کی سپیڈ اور اُٹھان اتنی تھی کہ چودھری انہیں پرویز مشرف سے ملوا کر پچھتاتے تھے۔ چودھری برادران تو ہمایوں اختر سے بھی خوفزدہ تھے کہ جب طارق عزیز اور پرویز مشرف ہمایوں کو وزیراعظم بنانے لگے تو … بہرحال سیاست کو بددُعا ہے کہ اس کے سینے میں دِل نہیں ہوتا۔ یہ بڑی سنگ دل ہوتی ہے۔ خلافت عثمانیہ سے بنو عباس تک اور مغل بادشاہوں سے سلاطین دہلی تک اتنی بے رحمی اور شقی القلبی کہ تاریخ مسکراتی ہے اور پڑھنے والا دہشت زدہ رہ جاتا ہے۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.